آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے وقت اُن کے دفتر میں موجود تھا:عباس عراقچی
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی نشریاتی ادارے ست بات چیت کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ وہ فروری میں جنیوا مذاکرات سے واپسی کے بعد 28 فروری کی صبح 9 بجے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر پہنچے تھے تاکہ انہیں مذاکرات اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر بریفنگ دے سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث جنگ کے امکانات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ گئے تھے، جب امریکا اور اسرائیل نے حملہ کیا تو آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھا، تاہم عمارت کا وہ حصہ جہاں ہم بیٹھے تھے براہِ راست حملوں میں محفوظ رہا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حملے کے وقت مجھے اپنی جان کے مقابلے میں سپریم لیڈر کی سلامتی کی زیادہ فکر تھی، اس حملے کے پہلے اور دوسرے روز شدید بے چینی کا شکار رہا، یہاں تک کہ ان کی شہادت کی خبر کی تصدیق ہو گئی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان دنوں جنگ کا خطرہ سر پر منڈلا لارہا تھا لیکن سپریم لیڈر پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کو پسند نہیں کرتے تھے۔
انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو ایران کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ایرانی قوم اور ریاست کیلئے ایک گہرا صدمہ تھا جسے کسی صورت میں بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے معاہدے کے بہت قریب ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ اس واقعے سے ایران کمزور ہو جائے گا یا ریاستی نظام ڈی ریل ہو جائے گا، تاہم ایسا سوچنے والوں کو مایوسی ہوئی، سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد تمام ادارے اپنے امور انجام دیتے رہے۔