پبلک ٹرانسپورٹ اور آن لائن ٹیکسیوں پر بار کوڈ لگانے کا فیصلہ
بار کوڈ شہریوں کی سکیورٹی کے پیش نظر لگائے جائیں گے، پولیس اور سیف سٹی اتھارٹی نے سکیورٹی بار کوڈ جنریشن پر کام شروع کر دیا، بار کوڈ میں ڈرائیور، کنڈکٹر اور گاڑی کی تمام تر تفصیلات شامل ہوں گی۔ آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز، گاڑیوں، موٹر سائیکلز اور پبلک ٹرانسپورٹ کا ریکارڈ مرتب کیا جانے لگا ہے، بار کوڈ سکین کر کے گاڑی یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار تمام افراد کا ریکارڈ چیک کیا جا سکے گا۔ بار کوڈ سکین کر کے آن لائن رائیڈ پر آنے والی گاڑی کی تفصیل بھی سامنے آئے گی۔
یہ بھی پرھیں: مریم نواز کا آئندہ سال کاشتکاروں کو 20 ہزار گرین ٹریکٹر دینے کا اعلان
پولیس کے مطابق بار کوڈ جنریشن سے جرائم پیشہ افراد کسی طور بھی ڈرائیور کا پیشہ نہیں اختیار کرسکیں گے، آن لائن فوڈ ڈلیوری بوائز کیلئے کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ ڈلیوری بوائز کے روپ میں زیادتی سمیت سنگین جرائم میں ملوث افراد کا تعین ہوگا، فوڈ ڈلیوری کمپنیوں سے ریکارڈ مانگ لیا گیا ہے۔