گرمی کی شدت میں خطرناک اضافہ، ماہرین صحت نے خبردار کر دیا

کراچی میں گرمی
کراچی میں بڑھتی گرمی شہریوں کیلئے صحت عامہ کا بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے/ فائل فوٹو
Updated 15 گھنٹے قبل | Published June, 5 2026 |
کراچی: (ویب ڈیسک) کراچی میں بڑھتی ہوئی گرمی شہریوں کیلئے صحت عامہ کا بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں شہری شدید گرمی، آلودگی اور مختلف بیماریوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق کراچی میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، تیزی سے پھیلتی ہوئی تعمیرات، درختوں کی کٹائی اور سبز علاقوں میں کمی شہر کو خطرناک ہیٹ زون میں تبدیل کر رہی ہے۔ شہری پھیلاؤ اور کنکریٹ کے بڑھتے استعمال کے باعث کراچی دن بھر جذب ہونے والی حرارت کو رات تک محفوظ رکھتا ہے، جس سے شہریوں کو مسلسل گرمی کا سامنا رہتا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی ہیلتھ سائنسز سے وابستہ ماہر صحت پروفیسر ظفر فاطمی کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ، دھوئیں، دھول اور کم ہوتے سبز علاقوں نے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق شدید گرمی اور فضائی آلودگی کا ملاپ شہریوں کیلئے دوہرا خطرہ بن چکا ہے، جس کے اثرات پھیپھڑوں، دل اور مجموعی صحت پر مرتب ہو رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند درجہ حرارت مچھروں کی افزائش، خوراک کے جلد خراب ہونے اور پانی کی آلودگی جیسے مسائل کو بھی بڑھا سکتا ہے، جس سے مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں صفائی اور نکاسی آب کا نظام کمزور ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آج رات ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان

پروفیسر ظفر فاطمی نے تجویز دی ہے کہ کراچی میں ہیٹ ویو سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی فوری طور پر اختیار کی جائے۔ اس حکمت عملی میں عوامی آگاہی، سایہ دار بس اسٹاپس، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، کولنگ سینٹرز کا قیام اور ہسپتالوں کی بہتر تیاری شامل ہونی چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ شہر میں درختوں کا تحفظ، نئے سبز علاقوں کا قیام، غیر ضروری کنکریٹ کے استعمال میں کمی، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ شہری منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کے شہری اور دیہی علاقوں کے درجہ حرارت میں تقریباً 4.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا فرق پایا جاتا ہے، جو ملک کے بڑے شہروں میں سب سے زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے، بزرگ، حاملہ خواتین، مزدور، ٹریفک اہلکار، رکشہ ڈرائیور اور کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد گرمی کی اس شدت سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ دل، شوگر، گردوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کیلئے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔