یمن کے موخا میں سعودی فضائی حملہ، 6 افراد جاں بحق
حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ادارے صبا کے مطابق حملوں میں جاں بحق ہونے والوں میں 2 بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں ایک بچہ اور ایک خاتون شامل ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ پیش رفت یمن میں حوثی فورسز اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی دستوں کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے، حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی کاروائیاں تیز کی ہیں اور موخا سمیت اہم علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔
موخا بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہی شہر ہے اور اس کی جغرافیائی حیثیت باب المندب کے قریب ہونے کی وجہ سے بھی اہم ہے۔ باب المندب عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے اس لیے یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں بحری آمد و رفت کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی دارالحکومت ریاض میں زوردار دھماکوں کی آواز
ادھر یمن کی گارننگ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے حوثیوں کے خلاف حمایت طلب کی، العلیمی کے دفتر کے ایک ذریعے کے مطابق ٹرمپ نے اس گفتگو میں براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔
دوسری جانب حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل میزائل حملوں کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، سعودی حکام نے 19 ستمبر کو ریاض کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کی تصدیق کی تھی جبکہ حوثیوں نے سعودی ساحلی علاقوں میں توانائی کے مراکز کو بھی نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔
یمن میں تازہ جھڑپوں اور فضائی کاروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جبکہ بحیرہ احمر اور المندب کے راستوں کی صورتحال عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔