کابل یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل میں دھماکہ، 20 طلبہ زخمی
زخمی طلبہ کو فوری طور پر علی آباد ہسپتال منتقل کر دیا گیا، ڈاکٹروں کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق جمعہ کی شب ہونے والے اس دھماکے کے بعد امدادی ادارے، سکیورٹی اہلکار اور طبی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں متعدد ایمبولینسوں کو یونیورسٹی ہاسٹل کے باہر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں زخمی طلبہ کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ہاسٹل میں موجود ایک طالب علم نے آڈیو پیغام میں بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد پورے ہاسٹل کی سکیورٹی سخت کر دی گئی، داخلی اور خارجی راستوں پر اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے، جبکہ طلبہ کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی تاکہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
طالبان حکومت کی جانب سے تاحال دھماکے کی نوعیت، وجوہات یا ممکنہ ذمہ داروں کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث واقعے سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما فوزیہ حبیب خالقِ حقیقی سے جا ملیں
افغانستان انٹرنیشنل نے ایک علیحدہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر خالد مسعود کو افغانستان کے صوبہ غزنی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے، تاہم اس دعوے کی تاحال کسی سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔