سہیل آفریدی حکومت سے کیے گئے مطالبات منظر عام پر لے آئے
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایکس پرجاری بیان میں کہا کہ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے، ریاست ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے، یہ پی ٹی آئی کے مطالبات تھے، ہیں اور رہیں گے۔
انہوں نے ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل اور امن و امان کے قیام کیلئے وفاقی حکومت کے سامنے پیش کئے گئے مطالبات ایکس پر جاری کر دیئے۔
پہلا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات: وزیرِ اعظم اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں ہوں، جن میں اہم سیاسی، قومی، آئینی اور قانونی معاملات پر بات ہو اور دو ماہ میں مؤثر پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
دوسرا مطالبہ ہے کہ حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو سیاسی معاملات اور اختلافات پر مسلسل مذاکرات کرے اور ایک ماہ میں قابلِ عمل حل کیلئے سفارشات پیش کرے۔
تیسرا مطالبہ ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حقوق: جیل قوانین اور آئین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق دیے جائیں اور جہاں قانون اجازت دے وہاں ان کے ذاتی یا نامزد ڈاکٹروں کی رائے کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔
چوتھا مطالبہ ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل قوانین کے مطابق اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلا اور مجاز رفقا سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاہم ان ملاقاتوں کو قانوناً ممنوع سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔
پانچواں مطالبہ ہے کہ قیدیوں کی قانونی درخواستوں پر کارروائی: عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں کی سزاؤں کے خلاف درخواستوں سمیت دیگر قانونی درخواستوں پر قانون کے مطابق دس دن میں کارروائی شروع یا مکمل کی جائے، جبکہ سیاسی قیدی خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد رہا کیا جائے۔
چھٹا مطالبہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان: وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خاتمے اور مستقل امن کے لیے مسلسل مشاورت کریں اور 72 گھنٹوں میں اجلاس کرکے ایک واضح اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں۔
آخری بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات اور طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرے گی، تاہم خلاف ورزی کی صورت میں پارٹی اپنے پُرامن اور قانونی احتجاج کا حق محفوظ رکھے گی۔