حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان مذاکرت کا پہلا دور ختم
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر، شیری رحمان اورحکومت کی جانب سے محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، طلال چودھری، امیر مقام اور طارق فضل چوہدری مذاکرات میں شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر محسن نقوی نے مذاکراتی وفود کو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی نے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کردیا، بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کی بات کی گئی، بانی کی بہنوں اورگرفتار ارکانِ اسمبلی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ: علی امین گنڈاپور کا 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان
دوسری طرف حکومتی وفد نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ کی کال واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
آج کے لیے مذاکرات کا دور ختم ہونے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اچھے ماحول میں مذاکرات ہوئے، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کل بھی جاری رہیں گے، ایک دوسرے کے موقف سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات سے حکومت کو اگاہ کر دیا ہے، یہ مذاکرات ماضی سے مختلف رہے، ہم ہمیشہ بانی پی ٹی آئی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات پر کھڑے ہیں۔
دوسری طرف محسن نقوی اور رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں اب تک ہونے والے مذاکرات سے متعلق آگاہ کیا اور پیشرفت بارے اعتماد میں لیا۔