حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے آج آمنے سامنے بیٹھیں گے
مذاکرات قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے دفتر میں دوپہر 12 بجے ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مذاکرات کا فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال، بالخصوص خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
حکومتی اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، امیر مقام، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شامل ہیں، وفد پی ٹی آئی قیادت سے موجودہ سیاسی صورتحال اور جاری کشیدگی پر بات چیت کرے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے تصدیق کی ہے کہ پارٹی کو حکومت کی جانب سے مذاکرات کیلئے پیغام موصول ہوا، جسے اپوزیشن رہنماؤں سے مشاورت کے بعد قبول کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، پارٹی کی جانب سے مارچ مؤخر کرنے کے بجائے اپنے مطالبات پر بات چیت پر زور دیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے گورنر راج کے نفاذ کے امکان پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اقدام سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عدالت نے حماد اظہر کے جسمانی ریمانڈ کا تحریری حکم جاری کردیا
اب تمام نظریں آج ہونے والی ملاقات پر ہیں، جہاں دونوں جانب کے نمائندے موجودہ سیاسی کشیدگی، احتجاجی مارچ اور دیگر سیاسی معاملات پر اپنا مؤقف سامنے رکھیں گے، مذاکرات کے نتیجے میں آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل سے متعلق صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔