پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات کے حوالے سے اہم پیشرفت
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذاکرات آن ریکارڈ نہیں، آف ریکارڈ ہیں اور ساری باتیں ہوتی رہی ہیں، آف دی ریکارڈ گفتگو کا مقصد خیبرپختونخوا حکومت کو باورکرانا ہے کہ وہ خود کو غیرقانونی، غیرآئینی مہم سے علیحدہ کرے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف عمران خان کی صحت کے حوالے سے جو مطالبات کر رہی ہے وہ آف دی ریکارڈ مذاکرات میں نہیں کرتی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو موجودہ صورت حال پر بریفنگ دی گئی ہے، گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کا اختیار آئینی طور پر وفاقی حکومت کے پاس موجود ہے، صوبائی حکومت کا یہ کام نہیں کہ وفاقی حکومت پر چڑھائی کرنے کو آئے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے مرحلے میں صوابی اور پھر آگے جائیں گے،سہیل آفریدی
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت بضد رہتی ہے تو گورنرراج یا ایمرجنسی لگانے کا اقدام کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کارکنوں کو یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ جہاں پولیس روکے وہاں انہیں رک جانا چاہیے، اگر سہیل آفریدی کارکنوں کو یہ کہہ دیں تو معاملہ ہی حل ہو جاتا پھر نہ کنٹینرز کی ضرورت اور نہ ڈیتھ ٹریپ کی بات کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ نہیں چاہتے کوئی ایسا اقدام کریں جس سے صوبائی حکومت ختم ہوجائے، جانتے ہیں اگر ہم نے کچھ کیا تو یہ ہمارے لیے ڈیتھ ٹریپ ثابت ہوگا مگر ہمارے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے بڑے پن کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔