ہمارے نبیﷺ دِکھتے کیسے تھے؟نبی اکرمﷺ کے حلیہ کا مستند بیان
استاد نے یہ سوال سنا تو ان کے چہرے پر محبت کی روشنی پھیل گئی۔ انہوں نے دھیرے سے کہا: ”بیٹے! یہ سوال صرف معلومات کا نہیں، محبت کا سوال ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے حلیہ مبارک کو ایسے محفوظ کیا جیسے کوئی اپنی آنکھوں میں سب سے عزیز منظر بسا لیتا ہے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ کے ساتھ چلے، آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھے، آپ ﷺ کی مسکراہٹ دیکھی، آپ ﷺ کے وقار کو محسوس کیا، پھر جو کچھ ان کے دلوں میں نقش ہوا، وہ امت تک پہنچا دیا۔“
استاد نے بات شروع کی: ہمارے نبی ﷺ کا قد مبارک نہ بہت لمبا تھا اور نہ پست؛ بلکہ نہایت مناسب، متوازن اور درمیانہ تھا۔ آپ ﷺ جب لوگوں کے درمیان ہوتے تو آپ ﷺ کی شخصیت اپنے وقار، حسن اور نورانیت کی وجہ سے الگ پہچانی جاتی۔ آپ ﷺ کا جسم مبارک نہایت خوبصورت، مضبوط اور متناسب تھا۔ نہ اس میں بھاری پن تھا، نہ کمزوری؛ بلکہ اعتدال، قوت اور جمال کا حسین امتزاج تھا۔“
نوجوان خاموشی سے سن رہا تھا۔ استاد نے آگے فرمایا: ”آپ ﷺ کا رنگ مبارک روشن، دلکش اور نورانی تھا۔ کسی صحابی نے اسے گندمی کہا، کسی نے سفیدی میں سرخی کی آمیزش بیان کی، کسی نے چاندی جیسی چمک سے تشبیہ دی، اور کسی نے چودہویں رات کے چاند جیسی تابانی کا ذکر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کا حسن صرف رنگت کا نام نہ تھا؛ وہ نور، وقار، پاکیزگی اور نبوت کی شان کا مجموعہ تھا۔ دیکھنے والا صرف چہرہ نہیں دیکھتا تھا، بلکہ دل تک اتر جانے والی روشنی محسوس کرتا تھا۔“آپ ﷺ کے بال مبارک بھی نہ بہت زیادہ گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے؛ بلکہ اعتدال کے ساتھ خم دار تھے۔ کبھی کانوں کی لو تک آتے، کبھی مبارک کندھوں تک پہنچتے۔ جب بال کھلتے تو ان میں بھی ایک خاص ترتیب اور وقار محسوس ہوتا۔ عمر مبارک کے آخری حصے میں بھی سر اور داڑھی میں سفیدی بہت کم تھی۔ گویا بڑھتی عمر کے باوجود آپ ﷺ کی شخصیت میں تازگی، وقار اور حسن قائم رہا۔
نوجوان نے آہستہ سے پوچھا: ”استاد جی! آپ ﷺ کا چہرہ مبارک کیسا تھا؟ “استاد نے محبت بھرے لہجے میں کہا: ”آپ ﷺ کا چہرہ مبارک مکمل گول نہ تھا، بلکہ اس میں ہلکی سی گولائی تھی۔ پیشانی کشادہ تھی، رخسار ہموار اور روشن تھے، داڑھی مبارک گھنی تھی، اور دہن مبارک کشادہ تھا۔ آپ ﷺ کی ناک مبارک نہایت موزوں، بلند اور نورانی تھی۔ دانت مبارک کھلے، صاف اور روشن تھے۔ جب آپ ﷺ مسکراتے تو دانت ایسے چمکتے جیسے اولے روشن ہو کر ظاہر ہو گئے ہوں۔ آپ ﷺ کا زیادہ ہنسنا قہقہہ نہیں ہوتا تھا، بلکہ ایک دلکش، پاکیزہ اور پُررحمت مسکراہٹ ہوتی تھی“۔
استاد نے پھر آنکھوں کا ذکر کیاکہ” آپ ﷺ کی آنکھیں سیاہ، بااثر اور گہری تھیں۔ پلکیں لمبی تھیں، آنکھوں کے کنارے خوبصورت اور لمبے تھے، اور نگاہ میں حیا، وقار اور رحمت جمع تھی۔ آپ ﷺ عموماً نظر جھکا کر چلتے۔ آپ ﷺ کی نگاہ آسمان کی طرف کم اور زمین کی طرف زیادہ ہوتی۔ یہ نگاہ کمزوری کی نہیں، عاجزی، حیا اور بندگی کی نگاہ تھی“۔آپ ﷺ کا سینہ مبارک کشادہ تھا۔ دونوں کندھوں کے درمیان مناسب فاصلہ تھا۔ ہڈیوں کے جوڑ مضبوط تھے۔ ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے بھرے ہوئے تھے۔ سینہ سے ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیر تھی۔ جسم مبارک صاف، روشن، متوازن اور باوقار تھا۔ آپ ﷺ کے مبارک کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی، جو اس بات کی علامت تھی کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔
نوجوان کے دل میں شوق بڑھتا جا رہا تھا۔ اس نے پوچھا: ”جب آپ ﷺ چلتے تو کیسے لگتے“؟”استاد نے جواب دیا: ”آپ ﷺ کی چال میں سستی نہیں تھی، قوت تھی؛ تکبر نہیں تھا، وقار تھا۔ آپ ﷺ جب چلتے تو مضبوط قدموں کے ساتھ آگے بڑھتے۔ یوں محسوس ہوتا جیسے بلندی سے نشیب کی طرف اتر رہے ہوں۔ آپ ﷺ کی رفتار میں مقصدیت تھی، سکون تھا، وقار تھا۔ آپ ﷺ بے دھیانی سے نہیں چلتے تھے۔ جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو آدھے رخ سے نہیں، بلکہ پوری توجہ کے ساتھ متوجہ ہوتے۔ یہ آپ ﷺ کے اخلاق کا بھی حسن تھا کہ جس سے بات کرتے، اسے مکمل اہمیت دیتے“۔
استاد نے تھوڑا توقف کیا، پھر کہا: ” بیٹے! آپ ﷺ کا حسن صرف جسمانی نقش و نگار تک محدود نہ تھا۔ آپ ﷺ کی شخصیت میں ایسی ہیبت تھی کہ جو شخص اچانک دیکھتا، مرعوب ہو جاتا؛ اور ایسی محبت تھی کہ جو پہچان کر ملتا، دل سے محبت کرنے لگتا۔ آپ ﷺ سب سے زیادہ کشادہ دل، سب سے زیادہ راست گو، سب سے زیادہ نرم خو اور سب سے زیادہ ملنسار تھے۔ آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے والا خود کو محروم نہیں سمجھتا تھا۔ ہر شخص کو لگتا کہ آپ ﷺ اسے اہمیت دے رہے ہیں“۔
آپ ﷺ کے اخلاق کا عالم یہ تھا کہ بلا ضرورت کلام نہ فرماتے، مگر جب گفتگو فرماتے تو الفاظ جامع، واضح اور مکمل ہوتے۔ کسی کی بات کو ناحق نہ کاٹتے۔ کسی کا عیب نہ ڈھونڈتے۔ کسی کو حقیر نہ سمجھتے۔ تھوڑی نیکی کو بھی بڑا سمجھتے۔ کھانے پینے کی چیزوں میں عیب نہ نکالتے۔ اپنی ذات کے لیے ناراض نہ ہوتے، اپنی ذات کے لیے انتقام نہ لیتے۔ حق پامال ہوتا تو آپ ﷺ کی غیرتِ ایمانی جاگ اٹھتی، مگر اپنی ذات کے معاملے میں سراپا حلم اور عفو ہوتے۔
نوجوان کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔ استاد نے آخر میں کہا: ”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب آپ ﷺ کو دیکھا تو ان کے دل گواہی دیتے تھے کہ آپ ﷺ جیسا کوئی نہیں۔ کسی نے کہا: میں نے آپ ﷺ سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا۔ کسی نے کہا: میں نے آپ ﷺ جیسا نہ پہلے دیکھا، نہ بعد میں۔ یہی ہمارے نبی ﷺ تھے؛ قد میں اعتدال، رنگ میں نور، چہرے میں چاندنی، آنکھوں میں حیا، چال میں وقار، گفتگو میں حکمت، مسکراہٹ میں رحمت، اور پوری شخصیت میں محبت، عظمت اور نبوت کی شان “۔
بیٹے! ہم نے آپ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، مگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے بیان کردہ حلیہ مبارک کو پڑھ کر دل میں ایک نورانی تصور ضرور بنتا ہے۔ اصل محبت یہ ہے کہ اس حلیہ مبارک کو ادب سے پڑھا جائے، آپ ﷺ پر درود بھیجا جائے، اور پھر آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا حسن بنایا جائے۔
حوالہ جاتی نوٹ
یہ مضمون رسول اللہ ﷺ کے حلیہ مبارک سے متعلق درج ذیل احادیث و روایات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے: صحیح بخاری حدیث 3548، صحیح مسلم حدیث 2337، 2339، سنن ترمذی حدیث 1754، 1724، 3637، شمائل ترمذی حدیث 7، 8، 12۔ مضمون میں ان روایات کے مکمل الفاظ نقل کرنے کے بجائے ان سے حاصل ہونے والے اوصاف کو ایک مسلسل، سادہ اور کہانی نما ترتیب میں پیش کیا گیا ہے، تاکہ قاری رسول اللہ ﷺ کے حلیہ مبارک کا ایک جامع، مؤثر اور باادب تصور اپنے دل میں بسا سکے۔