نگران حکومت صرف روزمرہ امور چلاسکتی، مستقل فیصلے نہیں کرسکتی: وفاقی آئینی عدالت
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ نگران حکومتوں کا بنیادی کام صرف روزمرہ امور انجام دینا ہوتا ہے اور وہ ایسے فیصلے نہیں کر سکتیں جو مستقل نوعیت کے ہوں۔ نگران حکومت کبھی بھی منتخب حکومت کے مساوی اختیارات کی حامل نہیں ہوتی۔ سرکاری ملازمین کی بھرتیاں مستقل نوعیت کا عمل ہے انہیں عارضی یا روزمرہ امور کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جنوری 2023 سے فروری 2024 کے دوران نگران حکومت کی بھرتیاں قانون کے مطابق نہیں تھیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ خیبرپختونخوا ملازمین برطرفی ایکٹ 2025 بنیادی حقوق کے خلاف نہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی انتخابات سے وجود میں آئی اور اسے قانون سازی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے ۔ عدالت نے برطرف ملازمین کی اپیلیں مسترد کر دیں۔
ادھر وفاقی آئینی عدالت نے ایران سے درآمد شدہ ہائیڈرو کاربن سے بھرے آئل ٹینکرز تین سال سے کسٹم کی تحویل میں رکھنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 15 روز کے اندر ان کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے سہیل آفریدی کو اعتماد میں لے لیا
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تین سال سے آتش گیر مواد سے بھرے آئل ٹینکرز کو کسٹم حکام نے بند کر رکھا اگر کسی کے سگریٹ جلانے سے آگ لگ گئی تو ذمہ داری کون اٹھائے گا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ کسٹم حکام کے اس اقدام کے باعث ٹینکرز ڈرائیورز بے روزگار ہو گئے ہوں گے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر ٹیسٹ رپورٹ درآمد کنندگان کے موقف کے مطابق درست ثابت ہو تو مناسب سکیورٹی کے عوض ٹینکرز کو ریلیز کیا جائے۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کی نگراں حکومت نے درجۂ چہارم کے ملازمین کو مستقل بھرتی کیا تھا جبکہ عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے نگراں دور میں بھرتی ہونے والے ملازمین کو برطرف کر دیا تھا۔
متاثرہ ملازمین نے اپنی برطرفی اور اس مقصد کے لیے بنائے گئے قانون کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔