قطری ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات بے نتیجہ ختم
رپورٹس کے مطابق قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے کئی گھنٹوں تک مذاکرات کیے، تاہم بات چیت کسی حتمی پیش رفت تک نہیں پہنچ سکی۔ مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران دونوں اپنے بنیادی مؤقف میں تبدیلی کیلئے تیار نظر نہیں آئے۔
مذاکرات میں آبنائے ہرمز، امریکی بحری ناکہ بندی، ایران پر عائد پابندیوں اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات زیر بحث رہے۔ ایران آبنائے ہرمز اور پابندیوں سے متعلق مطالبات پر زور دے رہا ہے جبکہ واشنگٹن جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران سے رعایتیں چاہتا ہے۔
ایران نے ایک تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش کی تھی، جس کیلئے امریکی بحری ناکہ بندی میں نرمی اور تیل کی فروخت پر پابندیوں سمیت دیگر اقدامات کی بات کی گئی تھی،تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا تھا۔
اس کے باوجود قطر سمیت علاقائی ثالث دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری رکھنے اور کسی ممکنہ سمجھوتے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
ٹرمپ نے بھی مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کی ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ نے سفارتی حل کیلئے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔