ٹرمپ کا ایران سے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان، تیل 5 فیصد مہنگا ہوگیا
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے بیان کے فوری بعد سرمایہ کاروں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
ترکیہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرتا۔
نہوں نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے اور ان کے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان موجود مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) بھی ختم ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب برقرار نہیں رہی اور وہ تہران کے ساتھ کسی نئی ڈیل میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا نے ایران پر فضائی حملے کیے تھے اور ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں بھی عائد کی تھیں، ان اقدامات کے بعد بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت پہلے ہی 2.7 فیصد اضافے کے بعد 72.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی تھی، جبکہ تازہ پیش رفت کے بعد قیمتوں میں مزید تیزی آ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی حملوں کا سخت اور تباہ کن جواب دیں گے، ایران
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف تیل بلکہ عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔