امریکا کا ایران پر فضائی حملہ،فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی اس مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد کی گئی جس میں ہفتہ کی صبح پاناما کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
دوسری جانب ایران نے جواباً بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا موقع دیا گیا تھا، تاہم اس نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔
امریکی فوج کے مطابق حملوں میں ایرانی فوج کے فضائی دفاعی نظام، نگرانی اور مواصلاتی مراکز، ڈرون ذخیرہ گاہوں، ساحلی ریڈار تنصیبات اور بارودی سرنگیں بچھانے سے متعلق فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی ساحلی شہر سیرک اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر سمیت اہم فوجی تنصیبات پر کامیاب حملے کیے ہیں، اگر ایران نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو امریکا مزید سخت فوجی اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سربیا کے صدر الیکساندر ووچچ نے استعفے کا اعلان کر دیا
ایرانی حکام نے امریکی حملوں کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں سفارتی عمل مکمل طور پر معطل کیا جا سکتا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بحرین کی وزارت داخلہ نے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ کئی شہروں میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔