سربیا کے صدر الیکساندر ووچچ نے استعفے کا اعلان کر دیا
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ووچچ نے دارالحکومت بیلگریڈ میں اپنے حامیوں کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چند ہفتے ہی مزید صدر رہیں گے اور اس کے بعد اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔
تاہم انہوں نے اپنے استعفے کی حتمی تاریخ یا پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے وقت سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
واضح رہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سربیا گزشتہ تقریباً 18 ماہ سے سیاسی بے چینی اور حکومت مخالف مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ یہ احتجاج نومبر 2024 میں نووی ساد شہر کے ایک ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد شروع ہوئے تھے، جس میں 16 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد حکومت کو شدید عوامی تنقید اور اپوزیشن کے دباؤ کا سامنا رہا۔
صدر ووچچ نے اپنے خطاب میں اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ ان کی جماعت، سربین پروگریسو پارٹی، آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ استعفے کے بعد بھی اپنی جماعت کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے اور قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کی 3 ممالک میں سفر کرنے پر پابندی عائد
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ووچچ صدارت چھوڑ دیں گے، تاہم وہ مستقبل میں وزیر اعظم کے منصب پر واپس آ کر ملکی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تحریکوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے اور صدر ووچچ کی جماعت کو سخت سیاسی مقابلہ دیں گے۔