فیڈل کاسترو کے قریبی ساتھی رامیرُو والڈیز انتقال کر گئے
ان کے انتقال کی تصدیق کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے سوشل میڈیا پر کی، تاہم ان کی وفات کی وجہ سے متعلق کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
رامیرُو والڈیز کو کیوبا کے انقلاب کے اہم ترین معماروں میں شمار کیا جاتا تھا، انہوں نے 1953 میں فیڈل کاسترو کے ساتھ مونکاڈا بیرک پر حملے میں حصہ لیا، جسے بعد میں کیوبا کے انقلابی سفر کا نقطۂ آغاز قرار دیا گیا۔
اس ناکام کارروائی کے بعد وہ دیگر انقلابی ساتھیوں کے ہمراہ میکسیکو جلاوطن ہو گئے، جہاں سے انہوں نے دوبارہ جدوجہد کی تیاری کی۔
1956 میں وہ فیڈل کاسترو اور دیگر انقلابیوں کے ساتھ مشہور کشتی گرانما کے ذریعے کیوبا واپس پہنچے اور مسلح تحریک کو ازسرِنو منظم کیا، طویل جدوجہد کے بعد 1959 میں انقلاب کامیاب ہوا اور فیڈل کاسترو کی حکومت قائم ہوئی، جس میں رامیرُو والڈیز نے مرکزی کردار ادا کیا۔
انقلاب کے بعد انہوں نے کئی اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیں، وہ وزیر داخلہ، نائب وزیر دفاع، نائب صدر اور حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن بھی رہے۔ کیوبا کی ریاست اور انقلاب کیلئے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہیرو آف دی ریپبلک اور کمانڈر آف دی ریولوشن جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:رکن سندھ اسمبلی نعیم احمد کھرل انتقال کر گئے
صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ رامیرُو والڈیز کی وفات ایک ایسے رہنما کا نقصان ہے جس نے اپنی پوری زندگی انقلاب اور قوم کی خدمت کیلئے وقف کر دی، انہوں نے کہا کہ ان کا بچھڑ جانا ایک والد جیسی شخصیت کے کھو جانے کے مترادف ہے۔