ٹرمپ انٹرویو کے دوران برہم، مائیک زمین پر پٹخ دیا
صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی کہ ٹرمپ نے اچانک گفتگو ختم کرنے کا اعلان کیا، اپنا مائیکروفون اتار کر زمین پر پٹخ دیا اور انٹرویو کا مقام چھوڑ کر چلے گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے کے معروف پروگرام کی میزبان کرسٹن ویلکر نے ریاست وسکونسن میں ٹرمپ کا ایک طویل انٹرویو کیا۔ تقریباً 50 منٹ جاری رہنے والی گفتگو کے دوران معیشت، ایران سے متعلق امریکی پالیسی، انتخابات اور میڈیا کے کردار سمیت مختلف موضوعات زیرِ بحث آئے۔
رپورٹس کے مطابق انٹرویو کے آخری مرحلے میں جب کرسٹن ویلکر نے کیلیفورنیا کے پرائمری انتخابات کے حوالے سے ٹرمپ کے انتخابی دھاندلی کے دعوؤں پر سوال اٹھایا تو ماحول کشیدہ ہو گیا۔
ٹرمپ نے سوالات پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے متعدد امریکی ٹی وی چینلز کو جانبدار اور بدعنوان قرار دیا اور کہا کہ میڈیا عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔
گفتگو کے دوران ٹرمپ نے میزبان سے کہا کہ وہ کافی وقت دے چکے ہیں، اب انٹرویو ختم ہونا چاہیے۔ جب کرسٹن ویلکر نے یاد دلایا کہ وہ انٹرویو کیلئے طویل سفر طے کرکے وہاں پہنچی ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ خود بھی شدید بارش میں ایک گھنٹے سے زائد وقت گزار چکے ہیں اور درجنوں سوالات کے جواب دے چکے ہیں۔
WOW -- Trump crashes out and cuts his interview with Welker short as she presses him on his lack of evidence for claiming elections are rigged
— Aaron Rupar (@atrupar) June 7, 2026
"You're either crooked or you're stupid. Let's call it quits. Because I've had enough. Thank you darling," he tells her."
"I traveled… pic.twitter.com/qQaNIDnX4y
بعد ازاں امریکی صدر نے اپنا مائیکروفون اتارا، زمین پر رکھا اور انٹرویو کا مقام چھوڑ دیا۔ تاہم روانگی کے وقت انہوں نے میزبان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ اس طرح کی صحافت امریکا کو عظیم نہیں بنا سکتی۔
یہ انٹرویو ایسے وقت میں ریکارڈ کیا گیا جب وسکونسن میں شدید بارش اور تکنیکی مسائل کے باعث کئی مرتبہ رکاوٹیں پیش آئیں۔
بعد میں کرسٹن ویلکر نے سوشل میڈیا پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خراب موسم نے گفتگو کو متاثر ضرور کیا، لیکن اس کے باوجود اہم قومی اور بین الاقوامی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ انٹرویو کے دوران کچھ غصے میں آ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل داغ دیے
ان کا کہنا تھا کہ موسم اور میڈیا کے رویے نے انہیں پریشان کیا، تاہم مجموعی طور پر ملاقات مثبت رہی اور وہ مستقبل میں دوبارہ بھی اسی پروگرام کو انٹرویو دینے کیلئے تیار ہیں۔