خلیفہ چہارم حضرت علیؓ انٹیلیجنس آفیسر کے حیثیت سے

ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک جماعت کی شکایت کی اور عرض کیا کہ یہ آدمی میرے والد کے ساتھ سفر میں نکلے تھے ، یہ خود تو لوٹ آئے ، لیکن میرے والد نہیں لوٹے۔
فائل فوٹو
Updated | Published June, 8 2026 | Muhammad Bilal
لاہور: (ویب ڈیسک) ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک جماعت کی شکایت کی اور عرض کیا کہ یہ آدمی میرے والد کے ساتھ سفر میں نکلے تھے ، یہ خود تو لوٹ آئے ، لیکن میرے والد نہیں لوٹے۔

شکایت کرنے والے نے بتایا کہ میں نے مذکورہ جماعت سے اپنے والد کے متعلق پوچھا تو کہنے لگے کہ وہ وفات پا گئے ہیں، ان کے مال کے بارے میں پوچھا تو کہا کہ کچھ نہیں چھوڑا ، جب کہ میرے والد کے ساتھ بہت زیادہ مال تھا۔

اس نے کہا کہ ہم قاضی شریح کے پاس فیصلہ لے کر گئے ، انہوں نے ان لوگوں سے قسم لی اور چھوڑ دیا۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سپاہیوں کو بلایا اور ہر ہر آدمی پر دو دو نگہبان ( سپاہی ) مقرر فرمائے اور ان کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو ایسا موقع نہ دو کہ وه آپس ميں ایک دوسرے سے بات چیت کر سکیں اور قریب ہو سکیں۔

پھر آپؓ نے اپنا کاتب بلایا اور ملزمان میں سے بھی ایک کو بلا لیا اور فرمایا : مجھے فریادی کے والد کے بارے میں احوال بتاؤ ، کس دن تمہارے ساتھ نکلا ، کس جگہ تم اترے ، تمہارا سفر کیسے ہوا اور کس بیماری میں اس نے وفات پائی ، کیسے اس کا مال ختم ہوا ، کس نے اس کو غسل دیا اور دفنایا ، کس نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور کہاں مدفون ہے؟؟؟

حضرت علیؓ نے اسی طرح کے بہت سے سوال پوچھے اور کاتب ان کو لکھتا رہا۔

پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور حاضرین نے بھی ساتھ دیا اور ملزم کے ساتھیوں کو کچھ پتہ نہ چلا کہ کیا ہو رہا ہے ، لیکن انہوں نے یہی گمان کیا کہ ان کے ساتھی نے ان کے خلاف اقرار کر لیا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو اپنی مجلس سے الگ کمرے میں بھیج دیا اور دوسرے کو بلایا ، اس سے بھی پہلے کی طرح سوالات کئے ، پھر اس کے بعد تیسرے سے ، چوتھے سے ، اس طرح سب کو یکے بعد دیگرے بلایا اور ان کے پاس جو جو راز کی باتیں تھیں ، جان لیں ، آپؓ نے دیکھا کہ سب کا بیان ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

پھر آپؓ نے پہلے کو حاضر کرنے کا حکم فرمایا اور ڈانٹا : اے اللہ کے دشمن ! میں نے تیرے دھوکہ کو پہچان لیا ، ان باتوں سے جو تیرے ساتھیوں سے سنیں ، اب تجھ کو سزا سے سوائے سچ کے کوئی نجات نہیں دے سکتا ، پھر دوبارہ اس کو قید کرنے کا حکم دیا اور بلند آواز زور سے اللہ اکبر کہا ، حاضرین مجلس نے بھی اللہ اکبر کہا اور ملزم کے ساتھیوں نے سمجھ لیا کہ ہر ایک کو خطرہ ہے کہ شاید ان کا ساتھی ان کے خلاف اقرار نہ کر لے۔

پھر آپؓ نے دوسرے آدمی کو بلایا ، اس کو بھی زجر و تنبیہ کی اس نے عرض کیا : اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ واقعی میں تو ان کے سڈ فعل کو ناپسند کر رہا تھا (اور میں بے قصور ہوں)۔

پھر آپؓ نے تمام کو بلایا اور انہوں نے اصل واقعہ کا اعتراف کیا اور پہلے جیل والے کو بھی طلب فرمایا اور کہا کہ تیرے ساتھیوں نے اقرار کر لیا ہے ، اب تجھ کو سوائے سچ کے کوئی نجات نہیں دلا سکتا، اس نے بھی ان تمام کی طرح اقرار کر لیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے مال کا تاوان ( جرمانہ ) وصول کیا اور مقتول کا قصاص بھی لیا۔