ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل داغ دیے
اسرائیلی فوج کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران سے داغے گئے تمام میزائل فضائی دفاعی نظام کے ذریعے راستے میں ہی تباہ کر دیے گئے اور کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں کے بعد ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا، جبکہ اردن کے بعض علاقوں میں بھی خطرے کے سائرن بجنے لگے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی اہداف کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو اس کے نتائج مزید سنگین اور تباہ کن ہوں گے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کی قبولیت اس شرط کے ساتھ کی گئی تھی کہ تمام محاذوں پر فائرنگ بند ہوگی، تاہم امریکا اور اسرائیل نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضاعی نے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور لبنان پر حملوں کیخلاف پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا اور آج کی کارروائی اسی کا جواب ہے۔
دوسری جانب کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل ایران پر جوابی حملے کی تیاری کر رہا ہے، سینئر ایرانی ذرائع نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود تمام امریکی اڈے بھی نشانے پر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا امریکی کارگو جہاز تحویل میں لینے کا دعویٰ
صورتحال کے پیشِ نظر ایران، عراق اور شام نے اپنی فضائی حدود کے بعض حصے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں، جبکہ دمشق ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تازہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ کرنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور معاہدے کی راہ اختیار کرے۔