میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب امریکی فوج خطے میں جاری آپریشن کے تحت فضائی سرگرمیوں میں مصروف تھی۔ اطلاعات کے مطابق تباہ ہونے والا طیارہ ایندھن فراہم کرنے والا فوجی طیارہ تھا جو دیگر جنگی طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن مہیا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے طیارے عام طور پر بڑے فضائی آپریشنز میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان کی مدد سے لڑاکا طیارے زیادہ دیر تک فضا میں رہ کر کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایرانی سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی دھمکی
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں مغربی عراق میں ایک ایندھن بردار طیارے کے نقصان کی اطلاع ملی ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ یہ واقعہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران پیش آیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اسی مشن میں شامل ایک اور طیارہ بحفاظت اپنے بیس پر لینڈ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ تاہم تباہ ہونے والے طیارے کے حوالے سے مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ چکی ہیں اور صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
U.S. Central Command is aware of the loss of a U.S. KC-135 refueling aircraft. The incident occurred in friendly airspace during Operation Epic Fury, and rescue efforts are ongoing. Two aircraft were involved in the incident. One of the aircraft went down in western Iraq, and the…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 12, 2026
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس طیارے میں عملے سمیت مجموعی طور پر 6 افراد سوار تھے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع ملی ہے یا نہیں۔ فوجی حکام نے اس حوالے سے حتمی معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ مکمل تفصیلات ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائیں گی۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طیارہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا کسی اور وجہ سے تباہ ہوا۔ دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی میڈیا بھی اس حادثے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔