لکی مروت میں آپریشن، کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک
سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے مطابق ہلاک دہشت گرد کوہاٹ پولیس لائنز پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا اور اس نے حملے میں استعمال ہونے والی بارود سے بھری گاڑی کی رہنمائی بھی کی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گرد دہشت گردی کے متعدد دیگر سنگین واقعات میں بھی سیکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا۔ وہ گل بہادر گروپ کے ساتھ قریبی رابطے میں تھا اور مختلف کارروائیوں میں ملوث رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی چھت اپنا گھر پروگرام، خاندانوں کو بلاسود قرضے دینے کا ہدف
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گرد بلی تنگ میں ہونے والی بینک ڈکیتی میں بھی موجود تھا، جہاں سے 60 لاکھ روپے لوٹے گئے تھے۔ بعد ازاں ڈکیتی کی رقم بکاخیل اور جانی خیل میں دہشت گرد گروہوں کے ارکان میں تقسیم کی گئی تھی۔
حکام نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد تقریباً دو ماہ قبل نئی کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے کے لیے ایک خودکش حملہ آور بھی لایا تھا، تاہم یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد کے آئندہ ممکنہ اہداف میں کوہاٹ میں پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کا سیٹ اپ اور پولیس ٹریننگ اسکول بھی شامل تھے، جنہیں نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں ملوث گروہ کے دیگر ارکان پہلے ہی سیکیورٹی اداروں کی حراست میں ہیں۔ مشترکہ آپریشن میں مرکزی منصوبہ ساز کی ہلاکت کو دہشت گردی کے مزید منصوبوں کو ناکام بنانے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔