حکومتی ہٹ دھرمی کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے، بیرسٹر گوہر
سوات میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعظم کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کی ملاقات اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل کی تجویز دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیے پر بھی بات کی گئی، تاہم حکومت کی جانب سے ان تجاویز پر پیش رفت نہیں کی گئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مذاکرات جنگوں میں بھی ہوتے ہیں، اگر حکومت مذاکرات میں مخلص ہے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائے۔ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں لیکن حکومت نے تعاون نہیں کیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ رکا نہیں، ہم پرامن ہیں اور پرامن احتجاج ہمارا حق ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس ہے، تاہم دہشت گردی کا خاتمہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت کا عمران خان کو پیش کرنے کا حکم
انہوں نے وفاقی حکومت سے خیبرپختونخوا میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی مداخلت کے باعث صوبے میں مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جب چیف سیکریٹری اور آئی جی کسی اور کے احکامات پر عمل کریں گے تو صوبے میں امن کیسے قائم ہوگا؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے کے ڈپٹی کمشنرز بھی کسی اور کے کہنے پر دفعہ 144 نافذ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج صوبے میں پی ٹی آئی کے وزرا اور ارکان اسمبلی غائب ہیں، اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کو 2 کروڑ ووٹ ملے لیکن مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ ان کے مطابق 76 ایم این ایز، 25 سینیٹرز اور پنجاب و خیبرپختونخوا کے 197 ایم پی ایز بائیکاٹ کریں گے۔