4 اکتوبر کو لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، سہیل آفریدی
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم کرلیے جائیں تو تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کے پہلے مرحلے میں شرکا صوابی جائیں گے، جس کے بعد اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی عوام اور ان کے مشیران بھی لانگ مارچ میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے متعلق کہا کہ پہلے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، اس لیے دوبارہ اجلاس بلانے کی ضرورت نہیں۔
سہیل آفریدی نے گورنر راج کے امکان پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت کے ساتھ بیک ڈور رابطے ہوسکتے ہیں، تاہم وہ پارٹی پالیسی کے مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 4 اکتوبر کو بڑی تعداد میں عوام لانگ مارچ میں شریک ہوں گے۔مارچ کے شرکا نہتے اور خالی ہاتھ ہوں گے، جبکہ کسی شخص کے پاس کوئی قابل اعتراض یا انتشار پھیلانے والی چیز نظر آئی تو اسے پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: احسن بھون کا کیپٹن (ر) صفدر کو 5 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر کسی نے لانگ مارچ کے دوران انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو اسے پی ٹی آئی کی پالیسی کے خلاف سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کسی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کے حوالے سے بھی خبردار کیا۔
سہیل آفریدی نے ملکی معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور پی ٹی آئی بانی عمران خان کے خاندان کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔