"لانک مارچ ہو گی" پی ٹی آئی کا حکومت کو دوٹوک پیغام
پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم پوری دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ہم پرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں اور یہی جمہوریت کا حسن ہوتا ہے کہ آپ بحث کرتے ہیں، اختلاف کرتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہا تھا کہ 700 کارکنان اور اسپورٹرز گرفتار ہیں، ایک ہزار کے خلاف لسٹیں بن چکی ہیں جو خود منظر سے غائب ہیں اور ان کے خاندان سخت مشکل میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہمارے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں اور پولیس ان کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ ہمارے پنجاب سے ممبران قومی اسمبلی کے گھروں پر ریڈ کیا گیا اوران کے ہاں پولیس نے ڈھیرے ڈال رکھے ہیں اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
#عہدوفا_27ستمبر
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) September 14, 2026
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان
🔹"ان سب چیزوں کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ میں ان سے یہ کہوں گا کہ خدارا یہ وقت ہے، ہوش کے ناخن لیں۔ ہمارے لوگ ان تین سالوں میں پہلے ہی بہت تکالیف برداشت کر چکے ہیں، اب اس سلسلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔ ایسے… pic.twitter.com/U91mUhYFyL
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ محمود الرشید خود جیل میں ہیں مگر ان کے خاندان کے ساتھ چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے جو کیا گیا، ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا ممکنہ لانگ مارچ، عدالت نے فیصلہ سنا دیا
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان اور بشریٰ بی بی کا علاج کرانے کی اپیل کرنا جرم ہے؟ “ہم کہتے ہیں کہ عمران خان کے کیسز پر سماعت کرو اور انصاف کے مطابق فیصلے کرو، کیا یہ جرم ہے۔”
انہوں نے کہا ہم نے ہر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور آئینی عدالت کو کہا مگر کہیں پر شنوائی نہیں ہوئی۔ “اسی سینیٹ اور اسی قومی اسمبلی میں ہماری آواز کو دبایا گیا، کیا اب ہم سڑکوں پر آ کر اپنی آواز نہ اٹھائیں۔”
چیئرمین پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “27 ستمبر کی مارچ ہوگا کیا آپ نے 14 مارچ نہیں کیے تھے، کیا آپ لوگوں نے اس کو ملین مارچ کا نام نہیں دیا تھا، کیا ہم نے آپ کو کنٹینر اور کھانا بھی دینے کا نہیں کہا تھا اور آپ ہم سے دہشت گردوں جیسا سلوک کریں گے۔”
انہوں نے حکومت سے قانون کے دائرے میں رہنے، پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرنے اور ملک کو جوڑے کے اقدامات کرنے کی درخواست کی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے فیصلے میں کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں۔
عدالت نے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی کہ سرکاری مشینری کو سیاسی جماعت کے احتجاج میں استعمال نہ ہونے دیا جائے اور کسی سرکاری ملازم کو احتجاج میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے۔