نئے صوبے بنے شاعرانہ
فائل فوٹو
Updated 22 گھنٹے قبل | Published September, 7 2026 |
بھوک، افلاس، ظلم و جبر
دھکے, ٹھوکریں، مایوسیوں کا سفر
حصولِ منزل بنے مرگِ غریب
بدعنوان سارے بدستور رہیں گے
ہاں مگر میرے ملک میں
نئے صوبے بنیں گے
نہ آٹا، شکر، نہ دال، مٹر
فاقوں سے ہیں کئی شکم خالی
تھے جو کل تک برسرِ روزگار
وہ آج بن گئے ہیں سوالی
یہ سلسلے بے بسی کے چلتے ہی رہیں گے
ہاں مگر میرے ملک میں
نئے صوبے بنیں گے
انصاف ناپید ہے
مجرم آزاد، بےگناہوں کے لیے قید ہے
حق تلفیوں کو حاصل عروج رہیں گے
ہاں مگر میرے ملک میں
نئے صوبے بنیں گے
سچ گوئی ڈری، سہمی رہے
جھوٹ جہاں ایک ہنر ٹھہرے
باطل براجمان ہوں مسندوں پر
اور ’’حق‘‘ رہے ہاتھ باندھے کھڑے
نظام یہاں ایسے ہی تسلسل سے چلیں گے
ہاں مگر میرے ملک میں
نئے صوبے بنیں گے
(کاشف شمیم صدیقی)