بھارت کیجانب سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کیلئے تزویراتی چیلنج
ایک مقامی انگریزی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ 65 سال سے زائد عرصے سے دنیا کے سب سے پائیدار، کامیاب اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحد پار پانی کی تقسیم کے معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔
چیئرمین واپڈا نے کہا کہ قانونی اور سفارتی اہمیت کے علاوہ یہ معاہدہ پاکستان کے آبی وسائل کی ترقی کی بنیاد بھی رہا ہے کیونکہ اس نے دریاؤں کے بہاؤ میں یقین اور پیش گوئی کی صلاحیت فراہم کی۔
واپڈا چیئرمین کے مطابق انہی یقینی آبی بہاؤ کی بدولت پاکستان نے انڈس بیسن اریگیشن سسٹم تعمیر کیا، جو دنیا کا سب سے بڑا مربوط آبپاشی نیٹ ورک ہے، اس نظام میں تین بڑے آبی ذخائر، چھ بیراج، بارہ بین الدریائی رابطہ نہریں اور نہروں کی وسیع تقسیم کا نظام شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ آبپاشی نیٹ ورک تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے اور پاکستان کی 90 فیصد سے زائد غذائی پیداوار کو سہارا دیتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ ملک کی پن بجلی، آبپاشی پر مبنی زراعت اور مجموعی معاشی ترقی کی بنیاد بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے نے جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
بھارت کے اقدام سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید کا کہنا تھا کہ مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد تزویراتی استحکام کو بنیادی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے اس اقدام کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اسے پابند معاہداتی ذمہ داریوں اور عالمی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کے واٹر کنونشن میں شریک ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ مشترکہ دریائی طاسوں پر گورننس، شفافیت اور تعاون کو "ون واٹر، ون وژن" کے اصول کے تحت مضبوط بنائیں، مگر بھارت اس کے برعکس سمت میں جا رہا ہے۔
ان کے مطابق قانونی بحث اپنی جگہ لیکن بھارت کے فیصلے نے ایک ایسے دریائی نظام میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے جو پاکستان کے پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
مستقبل کے آبی بہاؤ پر خدشات
واپڈا چیئرمین نے کہا کہ بھارت نے مئی 2025 کے بعد مغربی دریاؤں پر بالائی علاقوں میں انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے، بھارت نے اضافی منصوبوں پر تیز رفتار عمل درآمد کے لیے بولیاں بھی طلب کی ہیں، جن میں رنبیر کینال کی مجوزہ توسیع اور چناب بیاس لنک ٹنل شامل ہیں۔
چیئرمین واپڈا نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ پیش رفت پاکستان کے آبی تحفظ کے لیے طویل مدت میں سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
دریائی ڈیٹا کی فراہمی معطل
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید کا کہنا تھا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت ڈیٹا شیئرنگ کی ذمہ داریوں کے باوجود مغربی دریاؤں کا ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا پاکستان کے کمشنر برائے سندھ طاس کو فراہم کرنا بند کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 کے سیلابی موسم کے دوران بروقت دریائی بہاؤ کی معلومات نہ ہونے سے پاکستان کی فلڈ فورکاسٹنگ اور ہنگامی تیاری متاثر ہوئی جس سے انسانی جانوں، انفراسٹرکچر اور روزگار کو خطرات لاحق ہوئے۔
چیئرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات انسانی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے، مشترکہ آبی گزرگاہوں پر بین الاقوامی تعاون کو کمزور کرتے ہیں اور سرحد پار سیلابی خطرات سے آبادیوں کو محفوظ رکھنے کے بنیادی مقصد کے بھی خلاف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات پاکستان کی پائیدار ترقی کے اہداف یعنی ایس ڈی جیز 6.5، 6.5.1 اور 6.5.2 کے حصول کی صلاحیت کو بھی محدود کرتے ہیں، جن کا مقصد مشترکہ آبی وسائل کے انتظام میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کا قابلِ اعتماد دریائی بہاؤ پر انحصار
واپڈا چیئرمین نے کہا کہ پاکستان ایک زیریں کنارے کی ریاست کے طور پر بالائی علاقوں سے نکلنے والے دریاؤں کے قابل اعتماد اور پیش گوئی کے قابل بہاؤ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہا کہ ملک کا آبپاشی نظام، آبی ذخائر، زراعت، بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ترقی سب بلا تعطل دریائی بہاؤ پر منحصر ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان بہاؤ کی مقدار یا وقت میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال براہ راست پاکستان کے آبی، غذائی، توانائی، ماحولیاتی اور معاشی تحفظ کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
دریائے چناب سب سے اہم تشویش قرار
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید نے مغربی دریاؤں میں دریائے چناب کو تزویراتی اعتبار سے سب سے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈس بیسن کی جغرافیائی ساخت کے باعث چناب کے قابل پیش گوئی بہاؤ انڈس بیسن اریگیشن سسٹم کے محفوظ اور مؤثر آپریشن کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بالائی علاقوں کے دریائی بہاؤ کے ڈیٹا کی عدم دستیابی پاکستان کی نہری تقسیم کو منظم کرنے، سیلابی صورتحال کو سنبھالنے اور شدید آبی حالات میں بروقت وارننگ جاری کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے۔
چیئرمین واپڈا نے خبردار کیا کہ ایسی معلومات کی عدم موجودگی انسانی جانوں کے زیادہ ضیاع، اہم انفراسٹرکچر کو نقصان اور معاشی نقصانات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
واپڈا چیئرمین نے زور دیا کہ پاکستان کے خدشات کسی ایک ڈیم، پن بجلی منصوبے یا انجینئرنگ ڈھانچے تک محدود نہیں ہیں، نہ ہی یہ خدشات صرف معاہدے کے تحت مختص پانی کی کل سالانہ مقدار سے متعلق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل ابھرتا ہوا چیلنج متعدد بالائی منصوبوں کے ذریعے پیدا ہونے والی اس مجموعی صلاحیت میں ہے جس کے تحت پاکستان میں داخل ہونے والے دریائی بہاؤ کی مقدار، وقت اور پیش گوئی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے زیریں کنارے کے ملک کے لیے جس کا آبپاشی نظام قابل اعتماد دریائی بہاؤ پر منحصر ہے، یہ ایک وجودی چیلنج ہے جو روایتی آبی انتظام سے کہیں آگے ہے۔
پاکستان کی زراعت میں چناب کا کردار
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید نے کہا کہ دریائے چناب مرالہ کے مقام پر اوسطاً سالانہ 25 ملین ایکڑ فٹ پانی لاتا ہے، یہ دریا مرالہ، خانکی، قادرآباد، تریموں اور پنجند بیراجوں کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ ایکڑ زرعی زمین کو سیراب کرتا ہے۔
واپڈا چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہ کمانڈ ایریاز پاکستان کے سب سے زیادہ پیداواری زرعی علاقوں میں شامل ہیں، جو گندم، چاول، گنا اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار میں بڑا حصہ ڈالتے ہیں اور لاکھوں دیہی روزگاروں کو سہارا دیتے ہیں۔
چیئرمین واپڈا نے وضاحت کی کہ چناب پاکستان کے باہم مربوط انڈس بیسن اریگیشن سسٹم کا ایک نہایت اہم حصہ ہے، آبی ذخائر، بیراج، رابطہ نہریں اور آبپاشی نہریں ایک مربوط ہائیڈرولک نیٹ ورک کے طور پر کام کرتی ہیں۔
اسی لیے چناب کے بہاؤ کی مقدار یا وقت میں کوئی بھی مستقل تبدیلی صرف اس دریا کے اپنے کمانڈ ایریاز ہی کو متاثر نہیں کرتی بلکہ وسیع تر بیسن میں نہری نظام اور آبپاشی کی فراہمی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
جغرافیہ پاکستان کے متبادل محدود کرتا ہے
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید نے کہا کہ چناب کی تزویراتی اہمیت کو جغرافیہ مزید بڑھا دیتا ہے، دریائے چناب کا تقریباً پورا کیچمنٹ ایریا پاکستان میں مرالہ کے مقام پر داخل ہونے سے پہلے بھارت کے اندر واقع ہے۔
ان کے مطابق ایسے دریاؤں کے برعکس جن میں نیچے کی جانب سے بڑی معاون ندیوں کا پانی شامل ہوتا ہے، پاکستان کے پاس طویل مدتی بالائی ریگولیشن کی صورت میں مقامی اضافی بہاؤ سے کمی پوری کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی جغرافیائی حقیقت دریائے چناب کے قابل اعتماد اور پیش گوئی کے قابل بہاؤ کو پاکستان کے انڈس بیسن اریگیشن سسٹم کے عملی استحکام کے لیے ناگزیر بناتی ہے۔