مسافر بس گہری کھائی میں جا گری، 39 افراد جاں بحق
حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور امدادی اداروں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینسز جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ دشوار گزار اور پہاڑی علاقے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم زخمیوں اور متاثرین کو نکالنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں علاج معالجہ دیا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تیز رفتاری، دشوار گزار سڑک یا گاڑی پر سے ڈرائیور کا کنٹرول ختم ہونے کے باعث پیش آیا ہو سکتا ہے، تاہم حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب بھر میں ٹریفک چالان کا نیا نظام شروع
مقامی افراد نے بھی ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ انتظامیہ کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت اور زخمیوں کے اہل خانہ کو اطلاع دینے کا عمل جاری ہے۔