بی بی سی کی پاکستان میں دہشت گردی بارے رپورٹنگ پر سوالات اٹھنے لگے
عالمی سطح پر تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم کے لیے بار بار "شدت پسند" اور " عسکریت پسند" جیسی نرم اصطلاحات استعمال کرنا آخر کس ادارتی معیار کا عکاس ہے؟
جب معاملہ دہشت گردی کا ہو تو الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے، وہ بیانیہ تشکیل دیتے ہیں اور یہاں بی بی سی کا مقصد کیا ہے؟
دہشت گردی کو اس کے اصل نام سے پکارنے میں یہ ہچکچاہٹ کیوں؟ کیا نیویارک، لندن، پیرس یا میڈرڈ پر حملہ کرنے والوں کے لیے بھی یہی نرم زبان اختیار کی جاتی؟ اگر نہیں، تو پھر پاکستان کے لیے الگ معیار کیوں؟ کیا پاکستانی جانوں کی حرمت عالمی صحافت میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی؟
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ رپورٹ میں دہشت گردوں کے لیے مسلسل "اُنہوں نے"، "اُن" اور احترام آمیز اسلوب اختیار کیا گیا جبکہ ان کے ہاتھوں شہید ہونے والے معصوم شہریوں، بچوں، خواتین، سکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف یا تو انتہائی محدود رکھا گیا یا تقریباً نظرانداز کر دیا گیا۔
یہ توازن نہیں، بلکہ ترجیحات کا سوال ہے ، یہاں بی بی سی دہشت گرد تنظیم کے لئے شدت پسند جیسے الفاظ استعمال کر کے اُنہیں glorify کرنے میں پیش پیش ہے۔
صحافت کا تقاضا غیرجانبداری ضرور ہے مگر اخلاقی بے حسی ہرگز نہیں، غیرجانبداری کا مطلب یہ نہیں کہ قاتل اور مقتول کو ایک ہی ترازو میں رکھا جائے، دہشت گردی کی سفاکی کو نرم الفاظ میں لپیٹ دیا جائے، یا دہشت گرد تنظیم کے بیانیے کو غیر ضروری اہمیت دے کر اس کی سنگینی کو دھندلا دیا جائے۔
رپورٹ میں ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کی اندرونی سیاست، قیادت، اختلافات اور تنظیمی ڈھانچے پر غیرمعمولی تفصیل دی گئی مگر ان کے سفاک حملوں، ہزاروں بے گناہ پاکستانی شہریوں، سکیورٹی فورسز، پولیس، رینجرز اور فوج کے شہداء اور پاکستان کی دہائیوں پر محیط قربانیوں کو وہی اہمیت نہیں دی گئی۔
نتیجتاً رپورٹ دہشت گردی کے متاثرین سے زیادہ دہشت گرد تنظیم کی اندرونی کہانی بیان کرتی محسوس ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں ایک شخص جاں بحق، 5 زخمی
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قیمت ادا کی ہے، ہزاروں شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں، سکیورٹی فورسز نے ناقابلِ فراموش قربانیاں دیں اور ریاست آج بھی دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار ہے۔
ان قربانیوں کو پس منظر میں دھکیل کر دہشت گرد تنظیموں کے اندرونی معاملات کو نمایاں کرنا نہ صرف حقائق کا نامکمل عکس پیش کرتا ہے بلکہ دہشت گردی کے اصل متاثرین کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔
ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ دہشت گرد کو دہشت گرد کہا جائے، دہشت گردی کے متاثرین کی آواز کو مرکزی حیثیت دی جائے، اور رپورٹنگ میں ایسا کوئی تاثر پیدا نہ ہو جو دہشت گردی کی ہولناکی یا پاکستان کی مسلسل قربانیوں کو کم تر دکھائے، یہی پیشہ ورانہ دیانت، اخلاقی ذمہ داری اور عوامی اعتماد کا بنیادی معیار ہے۔