پٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں؟ فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا: وزیر پٹرولیم
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں؟ اس حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (سنو نیوز) وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں؟ اس حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

سینیٹر سلیم ماندوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ وزیر اعظم نے پٹرولیم مصنوعات اور قیمتوں کی مانیٹرنگ کیلئے وزارتی کمیٹی قائم کی ہے،کمیٹی کا اجلاس روزانہ ہوتا ہے ، خطے کی صورتحال لمحہ با لمحہ تبدیل ہوتی ہے اس لیے فوری فیصلے چاہیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی خریداری سے متعلق فوری فیصلہ کرنا ہوتا ہے ، قطر نے جنگ کے باعث فورس میجور کا اعلان کر دیا ہے، قطر سے ایل این جی کی درآمد رک گئی ہے، ایل این جی کا 25 ملین ڈالرز کا کارگو اب 100 ملین ڈالرز میں مل رہا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں فیول راشننگ ہو رہی ہے ، مگر وہاں صورتحال کافی خراب ہے ، ہم نے اس لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھایا۔

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں ذخائر کمرشل ریزرو ہوتے ہیں، پٹرولیم اور ایل این جی کی دستیابی بڑا چیلنج ہے ،صوبوں کی مشاورت کے ساتھ توانائی کفایت شعاری کیلئے اقدامات لیے، ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مسائل مختلف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بحر احمر کے راستے تیل کی ترسیل شروع کر دی

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 4 ریفائنریز بہت پرانی ہیں،ریفائنریز خام تیل عرب ممالک سے منگواتی تھیں۔ سعودی عرب ہمیں اچھی مقدار دوسری بندرگاہ سے فراہم کرے گا ، اس وقت جہاز اور انشورنس نہیں مل رہے ، پاکستان اپنے جہاز استعمال کر رہا ہے، اس سے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اور لانے میں تاخیر ہو گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جنگ سے پہلے ڈیزل کی قیمت پر 5 ڈالر کا پریمیم تھا ، میزائل چلنے کے بعد پریمیم 20 ڈالر ہو گیا ہے ، پہلے جہاز کی انشورنس 7 لاکھ ڈالر تھی جو اب 70 لاکھ ڈالر پر پہنچ گئی ہے، سوکار کی ایل این جی بھی 25 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر پہنچ گئی ہے، اس سے بجلی کا یونٹ 80 روپے کا بنے گا ، اس لیے مقامی گیس کی پیداوار بڑھائی ہے۔

وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ یوریا کیلئے گیس کی فراہمی روک کر ڈی اے پی کیلئے فراہم کی ہے ، یوریا کی پیداوار اس سال زیادہ تھی ، زیادہ تر ایل پی جی ایران سے آتی ہے ،ایران سے 3 ہزار ٹن یومیہ درآمد 6 ہزار ٹن پر پہنچ گئی ہے، کراچی بندرگاہ پر ایل پی جی کی درآمد کیلئے اقدامات کیے ہیں۔

کمیٹی رکن فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پاکستان جنگی حالت میں نہیں ہے مگر اس سے متاثرہ ہوا ہے ، کم لاگت پر خریدے گئے پٹرول کی قیمت بڑھا کر کس کو فائدہ پہنچایا گیا، اسرائیل نے ایران پر میزائل مارا آپ نے پاکستان میں پٹرول میزائل چلا دیا۔

اس کو بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں اچانک تیل کی قیمتیں گر گئیں

اس پر وزیر پٹرولیم نے جواب دیا کہ حکومت کی مشاورت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ،پٹرولیم ذخائر جو 70 ڈالر میں خریدے گئے تھے وہ اب 120 ڈالر پر حاصل کیے جائیں گے، اگر قیمت نہ بڑھاتے تو فرق ایک بڑا گردشی قرض بن جاتا ، اگر سبسڈی دی جاتی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہو جاتی۔

فاروق نائیک نے کہا کہ قیمت بڑھنے سے عوام پر بوجھ ڈالا گیا جس پر وزیر پٹرولیم نے جواب دیا کہ پاکستان میں پٹرول درآمد کرنے میں 20 دن لگتے ہیں، اگر قیمت فوری نہ بڑھاتے تو کمپنیوں نے فیول درآمد نہیں کرنا تھا ، ایسا نہ کرتے تو فیول ڈرائی آوٹ ہو جاتا، بنگلا دیش نے ایسا کیا وہاں ہنگامے شروع ہو گئے،بھارت ابھی تک فیول پر سبسڈی دے رہا ہے تاہم ایل این جی کی قیمت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کا اعلان کل کیا جائے گا، پٹرولیم مصنوعات کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر نئی قیمتوں کا تعین ہوگا، پٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں؟ فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ 

ضرور پڑھیں