ٹک ٹاکر انصر عرف مسٹر پٹلو اسلام آباد سے گرفتار
غیر سرکاری ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا شخصیت کی یہ گرفتاری افسوسناک بھگدڑ کے واقعے کے چند روز بعد عمل میں لائی گئی۔ تاہم گرفتاری کی اصل وجوہات اور حالات تاحال واضح نہیں ہو سکے۔
تاحال پولیس یا کسی دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ کارروائی ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں پیش آنے والے بھگدڑ کے المناک واقعے کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں شادی کی تقریبات اور انعامی قرعہ اندازی کے اعلان کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔
مسٹر پٹلو کی ٹیم کی جانب سے ایک گاڑی، 50 موٹر سائیکلوں اور دیگر تحائف کی تقسیم کا اعلان کیا گیا تھا۔ واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت عقیل اور ریحان کے نام سے ہوئی، جن میں سے ریحان کو علاج کے لیے لاہور منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مشہور ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی نامعلوم مقام سے آبدیدہ ویڈیو آگئی
سوشل میڈیا پر تشہیری مہم کے باعث گراؤنڈ میں لوگوں کا غیر معمولی رش جمع ہوگیا تھا۔ لاؤڈ اسپیکر پر تمام شرکا کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کے اعلان کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔
پولیس کے مطابق منتظمین نے اجازت نامے کی شرائط اور حفاظتی انتظامات کی خلاف ورزی کی۔ واقعے کے باعث ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک بھی متاثر ہوئی جبکہ املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پولیس نے قرعہ اندازی کے لیے رکھی گئی گاڑی اور 50 موٹر سائیکلیں بھی قبضے میں لے لی تھیں۔
واقعے کا مقدمہ تھانہ موترہ میں 9 نامزد ملزمان اور تقریباً 40 سے 45 نامعلوم سکیورٹی گارڈز کے خلاف درج کیا گیا۔ نامزد ملزمان میں مبینہ طور پر مسٹر پٹلو، ان کے بھائی کاشف بشیر، گراؤنڈ کے مالک شاہد جاوید، دانیال منیر، منیر احمد، محسن علی، ارشاد علی، عبداللہ مہدی اور زوہیب منشا شامل ہیں۔
مقدمہ تھانہ کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 322، 188، 148، 149، 431، 440 اور 109 سمیت مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 16 شامل کی گئی ہیں۔
دوسری جانب مسٹر پٹلو نے ویڈیو بیان میں واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جس وقت گراؤنڈ میں بھگدڑ مچی، وہ وہاں موجود نہیں تھے۔
ادھر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ کے واقعے پر حکومتی مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال مسٹر پتلو کی گرفتاری کی حتمی تصدیق نہیں کرسکتیں، کیونکہ متعلقہ حکام سے رابطے کے باوجود انہیں باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔