عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز خام تیل کے نرخوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، سعودی عرب میں حوثی حملوں اور خلیج میں بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے قیمتوں کو بڑھا دیا۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 2.90 ڈالر یا 2.77 فیصد اضافے کے بعد 108.06 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 2.27 ڈالر یا 2.27 فیصد اضافے سے 103.30 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ کاروبار کے ابتدائی اوقات میں دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہ بھی دیکھا گیا۔
ذہن نشین رہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی بندش بھی بتائی جارہی ہے۔ یہ پائپ لائن جمعہ کے روز عراق سے آنے والے ڈرون حملے کے نتیجے میں بند ہوئی تھی۔ مذکورہ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز سے گریز کرتے ہوئے تیل برآمد کرنے کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پائپ لائن کی بندش سے عالمی تیل کی تقریباً 4 فیصد سپلائی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے داخلی راستے باب المندب میں واقع جزیرہ پریم پر کنٹرول مضبوط کرنے کی کوششوں نے بھی توانائی کی عالمی ترسیل سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیزل کی قیمت نے تمام حدیں پار کردیں
گزشتہ ہفتے بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا تھا اور جولائی کے بعد پہلی بار قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی تھی۔ عالمی مارکیٹ میں مزید کشیدگی کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔