عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ
مثبت سفارتی اشاروں کے بعد عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ 13 جولائی کے بعد 78 ڈالر فی بیرل کی سطح سے نیچے آ گئی، جسے توانائی کی عالمی منڈی کیلئے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 78.30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی گراوٹ کے بعد 74.50 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جو گزشتہ تین ہفتوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق معاہدہ آج یا کل طے پانے کا امکان موجود ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں مثبت ردعمل سامنے آیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے تیل کی خرید و فروخت سے متعلق اپنی حکمت عملی پر نظرثانی شروع کر دی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی خام تیل کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اگر اس راستے سے تیل کی ترسیل معمول کے مطابق بحال ہو جاتی ہے تو عالمی سپلائی سے متعلق خدشات میں واضح کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سفارتی پیش رفت نے مارکیٹ میں اعتماد بڑھایا ہے، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حتمی نتائج سامنے آنے تک غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کار آئندہ چند روز میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل عالمی توانائی مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔