میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت میں 9.29 ڈالر فی بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 101.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امریکی خام تیل کی قیمت 9.02 ڈالر کے اضافے کے بعد 96.27 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ حالیہ ہفتوں میں سب سے بڑا اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی جزیروں پر کسی بھی جارحیت کا جواب انتہائی عبرتناک ہو گا: تہران
ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے کے لیے بعض ممالک کی جانب سے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر جاری کرنے کے اعلانات بھی کیے گئے، تاہم اس کے باوجود قیمتوں میں کمی نہیں آ سکی۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صرف ذخائر جاری کرنا قیمتوں کو کم کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہو رہا کیونکہ مارکیٹ میں بنیادی مسئلہ سپلائی کے خدشات کا ہے۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر رہی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو تیل کی ترسیل کے اہم راستے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں، جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ خلیج کے خطے میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی یا تیل کی تنصیبات کو لاحق خطرات عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کرتے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کے حوالے سے خدشات بڑھنے لگتے ہیں تو تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر چلی جاتی ہیں۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو اس سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔