آج پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ ایجبسٹن کے تاریخی میدان میں پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے شروع ہونے جا رہا ہے۔ اگر اس پورے دورہ انگلینڈ کا غیر جانبدارانہ اور تنقیدی جائزہ لیا جائے تو یہ دورہ پاکستان کرکٹ ٹیم اور اس کے شائقین کے لیے ایک بے رحم ’رولر کوسٹر‘ سے کسی طور کم ثابت نہیں ہوا ہے۔ جہاں امیدوں، جذبات اور توقعات کے محل اتنی ہی تیزی سے زمین بوس ہوئے جتنی تیزی سے ٹیم انتظامیہ کے فیصلے بدلتے دکھائی دیے ہیں۔ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو جس طرح ایک اننگز اور 103 رنز کی شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس نے وہیں قومی ٹیم کے کھیل کے معیار اور حکمت عملی کا پول کھول دیا تھا۔ لیکن تباہی کی داستان صرف پہلے میچ پر ختم نہیں ہوئی۔ دوسرے ٹیسٹ میں، تاریخی اور عالمی کرکٹ کے مرکز ’لارڈز‘ کے میدان میں، جہاں ہر کرکٹر اپنی بہترین صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا خواب دیکھتا ہے، پاکستان کو تین دہائیوں بعد 194 رنز کی ایک اور عبرتناک اور مایوس کن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لارڈز کی شکست صرف ایک میچ کا ہارنا نہیں تھی، بلکہ اس نے قومی کرکٹ کے اندرونی ڈھانچے کو بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا۔
دوسرے ٹیسٹ میچ کے اختتام کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ ٹیم اور انتظامیہ کے اندر ایک ایسا زلزلہ اور بھونچال آیا جس کی مثال عالمی کرکٹ کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی دورے کے دوران جہاں کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرنے اور انہیں اگلے میچ کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہاں پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا ایک ایسا عجیب و غریب باب رقم کیا گیا جس میں دورانِ تور ہی سات کھلاڑیوں کو ہنگامی بنیادوں پر یہ حکمنامہ جاری کر دیا گیا کہ وہ پہلی دستیاب فلائٹ پکڑیں اور فوراً وطن واپس پہنچیں۔ ایک بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ یہ رویہ انتہائی افسوسناک، نا مناسب اور سراسر غیر پیشہ ورانہ (Unprofessional) تھا۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جو اپنے کیریئر، تجربے اور ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر بارہا پاکستان کو یادگار فتوحات دلوا چکے ہیں۔ ان پرفارمرز کی خدمات اور عزتِ نفس کو ایک لمحے میں بالائے طاق رکھتے ہوئے، جس انداز میں انہیں ٹیم سے الگ کر کے واپس بھیجا گیا، اس سے یہ تاثر قائم ہوا کہ شاید ناکامی کی تمام تر ذمہ داری ان چند کھلاڑیوں پر ڈال کر بورڈ اپنی انتظامی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ کرکٹ جیسے مہذب کھیل میں جہاں کھلاڑیوں کی ذہنی آسودگی اور ٹیم کا اتحاد سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے، وہاں اس طرح کے احکامات نہ صرف کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی ہیں بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کے وقار کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ احکامات آخر کس کی طرف سے آئے، ان کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما تھے اور بورڈ کا یہ اندازِ فکر کیسے پاکستان کرکٹ کی تباہی کا باعث بن رہا ہے، اس سنگین معاملے پر کالم کے آخری حصے میں تفصیل سے بات کریں گے۔
اب ذرا ان لوگوں کے لیے ایک سخت حقیقت اور فیکٹ چیک کی بات ہو جائے جو آج کل ٹی وی اسکرینوں، ٹاک شوز اور ڈیجیٹل میڈیا پر بڑے بڑے تجزیہ کار بن کر بیٹھتے ہیں اور موجودہ ٹیم پر تند و تیز تنقید کے تیر چلاتے ہوئے انہیں اخلاقیات اور کرکٹ سکھانے کے مشورے دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنی پوری ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایجبسٹن کے میدان پر کبھی کوئی ایک ٹیسٹ میچ بھی نہیں جیت سکا ہے۔ یعنی جو گراؤنڈ پاکستان کے لیے ہمیشہ سے ایک نامساعد اور ڈراؤنا خواب رہا ہے، وہاں آج کی ٹیم سے کسی معجزے کی توقع رکھنا اور پچھلی تمام ناکامیوں کو بھول کر صرف موجودہ کھلاڑیوں کو سولی پر چڑھانا صریحاً ناانصافی ہے۔ ان تجزیہ کاروں کی اپنی ماضی کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو سچائی خود بخود سامنے آ جاتی ہے۔ یہاں اگر پاکستان کرکٹ کے موجودہ کرتا دہرتا اور بااثر شخصیات میں سے ایک، عاقب جاوید کی بات کی جائے—جو آج کل ٹی وی چینلز اور بورڈ کی راہداریوں میں بیٹھ کر موجودہ کھلاڑیوں پر کڑی تنقید کرتے ہیں اور انہیں ٹیم سے فوراً فارغ کرنے کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں—تو ان کا اپنا ریکارڈ بھی اسی ایجبسٹن کے میدان پر انتہائی معمولی رہا ہے۔ 1992 میں عاقب جاوید نے جب ایجبسٹن میں ٹیسٹ میچ کھیلا تھا تو انہوں نے 16 اوورز میں 86 رنز لٹائے تھے اور پورے میچ میں صرف ایک کھلاڑی کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ جو سابق کرکٹر خود اس میدان میں ایسی ناقص کارکردگی دکھا چکے ہوں، ان کا آج کے کھلاڑیوں پر بے رحمانہ تنقید کرنا اور ان کے کیریئر ختم کرنے کی باتیں کرنا چہ معنی دارد؟ جب سے عاقب جاوید اور ان کے ہم خیال افراد پاکستان کرکٹ کے سیٹ اپ اور فیصلے کرنے والی کمیٹیوں میں تشریف لائے ہیں، تب سے یہ بات واضح دیکھی جا سکتی ہے کہ چند مخصوص کھلاڑی مسلسل ان کی بندوق کی ششت (Target) پر رہے ہیں۔ بطور سابق کھلاڑی، کوچ اور انتظامیہ کے رکن کے، کسی بھی شخص کو اپنے ذاتی پسند و ناپسند کا بغض ٹیم پر نہیں نکالنا چاہیے کیونکہ ایک سچے اور بااصول پیشہ ور (Professional) شخص کو ایسا رویہ ہرگز زیب نہیں دیتا۔ لیکن شاید یہ ہمارا بدقسمت قومی المیہ ہے اور بھئی یہ تو پاکستان کرکٹ ٹیم کا ماحول ہے، جہاں اصول و ضوابط ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
اس پورے بحران اور ڈرامائی صورتحال میں اب بات کرتے ہیں پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم کی، جن کی کپتانی، فارم اور کردار پر اس وقت چاروں طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ میری نظر میں اس متنازعہ اور افراتفری سے بھری سیریز کے بعد بابر اعظم کو خود آگے بڑھ کر، اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے، کپتانی سے استعفیٰ دے دینا چاہیے اور بورڈ پر یہ واضح کر دینا چاہیے کہ وہ آئندہ کسی بھی فارمیٹ کی کپتانی کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔ کل ہونے والی پریس کانفرنس میں بابر اعظم نے جو گفتگو کی، اس سے ٹیم کے اندرونی حالات کا پول کھل کر سامنے آ گیا۔ بابر کا کہنا تھا کہ انہیں خود اس بات کا علم نہیں تھا اور بعد میں پتا چلا کہ ٹیم میں اتنے بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے اور سات کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے روایتی محتاط انداز میں یہ بھی کہہ دیا کہ بورڈ نے کچھ سوچ کر ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بابر اعظم کے یہ دو متضاد بیانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کس طرح موجودہ کرکٹ سیٹ اپ میں ٹیم کے کپتان، کھلاڑیوں اور حتیٰ کہ ہیڈ کوچ اور کوچنگ اسٹاف کو بھی کسی بھی اہم فیصلے میں شامل نہیں کیا جاتا۔ فیصلے بند کمروں میں، ہنگامی بنیادوں پر اور شدید اجلت میں کیے جاتے ہیں جن کا مقصد صرف میڈیا کے دباؤ کو کم کرنا ہوتا ہے۔
عاقب جاوید اور کمپنی کے موجودہ دورِ حکومت میں یہ روش عام ہو چکی ہے کہ کھلاڑیوں کے ساتھ دوہرا معیار اپنایا جاتا ہے۔ ایک طرف جہاں چند من پسند کھلاڑیوں کو بلاوجہ، بغیر کسی تسلسل اور پرفارمنس کے، بے جا سپورٹ فراہم کی جاتی ہے اور انہیں سنبھال کر رکھا جاتا ہے، تو دوسری طرف چند دیگر کھلاڑیوں کو بے جا اور مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔ یہ میری ذاتی اور محتاط رائے ہے کہ کوئی بھی کرکٹر، چاہے وہ کتنا ہی بڑا فنکار یا ورلڈ کلاس کھلاڑی کیوں نہ ہو، اس وقت تک اپنی قدرتی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر سکتا جب تک کہ اسے ٹیم میں اپنے مقام کا تحفظ احساس نہ ہو۔ جب کسی کھلاڑی کے سر پر مسلسل یہ تلوار لٹک رہی ہو کہ اگر اس نے اگلے میچ یا اگلی اننگز میں 50 یا 100 رنز نہ بنائے تو اسے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر باہر پھینک دیا جائے گا، تو وہ کھلاڑی قدرتی کھیل کھیلنے کے بجائے 'خوف اور بقا' (Survival) کی جنگ لڑنے لگتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال ہمیں قومی ٹیم کے متوسط آرڈر کے ان بلے بازوں اور فاسٹ باؤلرز میں ملتی ہے جو ایک یا دو میچوں میں ناکامی کے بعد یکسر غائب کر دیے جاتے ہیں۔ اس نفسیاتی کیفیت میں کوئی بھی ایلیٹ ایتھلیٹ کبھی بھی اپنے ملک کے لیے Match Winning کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔ عاقب جاوید کی یہ منفی اور جابرانہ پالیسیاں نہ صرف کھلاڑیوں کے اعصاب کو شل کر رہی ہیں بلکہ پوری ٹیم کو ایک خوف کے ماحول میں دھکیل چکی ہیں۔
بابر اعظم نے کل کی پریس کانفرنس میں اگرچہ کچھ اہم باتیں کیں اور اوپر سے پرامید نظر آنے کی کوشش کی، لیکن ان کی شکل، لہجے اور باڈی لینگویج (Body Language) سے ایک گہرا کرب، بے چینی اور پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔ سوشل میڈیا اور کرکٹ کے حلقوں میں گردش کرنے والی یہ خبریں محض افواہیں نہیں ہیں کہ اسکواد میں شامل نئے اور پرانے تمام کھلاڑی شدید خوف اور دباؤ کا شکار ہیں۔ حتیٰ کہ ایجبسٹن میں پریکٹس سیشنز کے دوران بھی کھلاڑیوں کے چہروں، اشاروں اور انداز سے 'پرفارمنس اینگزائٹی' (Performance Anxiety) کے اثرات واضح اور نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے تھے۔ بابر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ ایجبسٹن کا میدان ان کے لیے خوش قسمت رہا ہے اور وہ اس آخری ٹیسٹ میں اپنی کھوئی ہوئی فارم اور اعتماد واپس لانے کی پوری کوشش کریں گے۔ ماضی میں جب بابر اعظم سے رنز نہیں بن رہے تھے تو دنیا بھر کے سابق کرکٹرز اور کرکٹ پنڈت یہ تجزیے کر رہے تھے کہ شاید ان کی بیٹنگ ٹیکنیک میں کوئی بڑا نقص آ گیا ہے، یا پھر ان کے اندر رنز بنانے کا وہ کرنٹ اور بھوک ختم ہو چکی ہے جو ایک عظیم بلے باز کا طرہ امتیاز ہوتی ہے۔ لیکن حالیہ واقعات اور بورڈ کے اس عجلت پسندانہ فیصلے کے بعد یہ حقیقت پوری دنیا پر روزِ روشن کی طرح عائل ہو گئی ہے کہ بابر اعظم کی تکنیک یا صلاحیت میں کوئی خرابی نہیں ہے؛ بلکہ وہ صرف اس شدید پرفارمنس اینگزائٹی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جو کرکٹ بورڈ اور موجودہ مینجمنٹ کی جانب سے مسلسل ان پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ کبھی میڈیا کے ذریعے ان کے اسٹرائیک ریٹ پر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں، تو کبھی ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ میں ان کی چھکا مارنے کی صلاحیت اور ٹیکنیک پر فضول بحث شروع کر دی جاتی ہے۔ ایک ایسا کھلاڑی جو دنیا کا بہترین بیٹر رہ چکا ہو، جب اسے روزانہ کی بنیاد پر اپنے وجود اور صلاحیت کا ثبوت دینا پڑے، تو اس کا گراؤنڈ میں کارکردگی متاثر ہونا ایک قدرتی بات ہے۔
بابر اعظم کے اس پریس کانفرنس والے بیان کے بعد، جس میں انہوں نے ایجبسٹن کو اپنے لیے خوش قسمت قرار دیا، میں نے فوراً ماضی کے صفحات پلٹے اور 2016 میں ایجبسٹن میں ہونے والے پاکستان بمقابلہ انگلینڈ ٹیسٹ میچ کا اسکور کارڈ دوبارہ دیکھا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ بابر اعظم اس وقت قومی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ نہیں تھے، لیکن پھر بھی میں نے خود کو تسلی دینے کے لیے ریکارڈز کی چھان بین کی کہ کہیں بابر اس ٹیم میں شامل تو نہیں تھے جو 141 رنز کے ایک بڑے مارجن سے وہ ٹیسٹ میچ ہاری تھی۔ میری گمان درست ثابت ہوئی، بابر اس 2016 کی ہارنے والی ٹیم کا حصہ ہرگز نہیں تھے۔ بابر اعظم کا اس گراؤنڈ پر آخری میچ سال 2024 میں انگلینڈ کے خلاف تھا جہاں انہوں نے ایک مشکل اننگز میں 32 رنز بنائے تھے۔ اگر ون ڈے کرکٹ کی بات کی جائے تو ایجبسٹن کے اسی میدان پر بابر نے سال 2021 میں انگلینڈ کے خلاف اپنے ون ڈے کیریئر کی سب سے بہترین اور یادگار 158 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ اس لیے تکنیکی اور عددی اعتبار سے ایجبسٹن واقعی ان کی انفرادی بیٹنگ کے لحاظ سے ایک سازگار گراؤنڈ رہا ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک اکیلا کھلاڑی پوری بورڈ مینجمنٹ کے پیدا کردہ زہریلے اور دباؤ سے بھرے ماحول کا مقابلہ اکیلے دم پر کر سکے۔
اب کالم کے اس اہم ترین اور اختتامی پہلو کی طرف آتے ہیں کہ کیسے پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) اپنی نام نہاد ری سٹرکچرنگ، عجلت پسندانہ پالیسیوں اور نااہلی کی وجہ سے اپنے ہی بین الاقوامی کھلاڑیوں کی تذلیل کر رہا ہے اور ملک میں ابھرتے ہوئے نئے ٹیلنٹ کے لیے تباہی کے سامان پیدا کر رہا ہے۔ دنیا کے تمام مہذب اور کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں کھلاڑیوں کو اپنے ملک کا اثاثہ، سفیر اور برانڈ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بورڈ کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ جب بھی ٹیم کسی غیر ملکی دورے پر ہارتی ہے، تو بورڈ کے عہدیدار اور سلیکٹرز اپنی ناکامیوں کی ذمے داری قبول کرنے کی بجائے کھلاڑیوں کو بلی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی دورے کے درمیان سے کھلاڑیوں کو اچانک سرفراز، تحقیر آمیز اور تذلیل کے انداز میں واپس بلا لینا ایک ایسا اقدام ہے جو نچلی سطح پر کھیلنے والے نوجوان کرکٹرز کے دلوں میں خوف اور غیر یقینی کی فضا قائم کر دیتا ہے۔ قائد اعظم ٹرافی، پی ایس ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں سالہا سال محنت کرنے والا نیا اور ابھرتا ہوا ٹیلنٹ جب یہ دیکھتا ہے کہ جن کھلاڑیوں نے پاکستان کے لیے ستاون، ستر یا سو میچز کھیل رکھے ہیں، ان کی عزت اور مقام کی بورڈ کی نظر میں کوئی وقعت نہیں، تو ان کا حوصلہ پست ہو جاتا ہے۔
نئے ٹیلنٹ کو آگے لانے کے نام پر جس طرح پاکستان کرکٹ میں 'یو نو کٹ اور پیسٹ' کی پالیسی چلائی جا رہی ہے، وہ نئے آنے والے کھلاڑیوں کو سنوارنے کے بجائے ان کا کیریئر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر رہی ہے۔ ایک نیا کھلاڑی جب قومی ٹیم میں آتا ہے اور اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنے پہلے یا دوسرے میچ میں صفر پر آؤٹ ہو گیا یا اس سے کیچ چھوٹ گیا تو اسے بورڈ کے فیصلے کے تحت ہمیشہ کے لیے گمنامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا جائے گا، تو وہ کبھی بھی آزادانہ اور کھلے دل سے نہیں کھیل سکتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی موجودہ پالیسیاں جدید کرکٹ کے تقاضوں کے بالکل برعکس ہیں۔ دنیا کی بہترین ٹیمیں جیسے آسٹریلیا، انگلینڈ یا بھارت، اپنے کھلاڑیوں کو طویل مدتی منصوبابندی (Long-term Vision) کے تحت لاتی ہیں، انہیں پروسیس اور ناکامیوں کے دوران پورا بیک اپ دیتی ہیں، اور ان کی ذہنی صحت کا خیال رکھتی ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان بورڈ کی پالیسی صرف نعرے بازی، جذباتی فیصلوں اور عاقب جاوید جیسے افراد کے ذاتی مفادات اور پسند و ناپسند کے گرد گھومتی ہے۔ اگر بورڈ نے اپنے ان رویوں، کھلاڑیوں کی تذلیل کے عمل اور غیر پیشہ ورانہ فیصلوں پر سچی توبہ نہ کی اور اپنی بنیادی پالیسیوں کو درست نہ کیا، تو ایجبسٹن کا آخری ٹیسٹ میچ تو شاید جیسے بھی ختم ہو جائے، لیکن پاکستان کرکٹ کا مستقبل اندھیروں اور شدید تنزلی کی ایسی دلدل میں گر جائے گا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ ممکن نہیں رہے گا۔