سلاخوں کے پیچھے قید بچپن

گلیوں میں ہنسنا، مٹی میں کھیلنا، پارکوں میں جھولے لینا، آسمان میں پرندوں کی طرح بےخوف اُڑنا، ماں باپ کی محبت، بہن بھائیوں کی قربت، ایک مکمل گھر اور ایک عام سی زندگی کا خواب دیکھنے والے پاکستان میں سلاخوں کے پیچھے کھڑے 248 معصوم بچے جو زنجیروں کے بغیر جینا چاہتے ہیں۔

یہ کوئی افسانہ یا کہانی نہیں، بلکہ ایک تلخ اور زندہ حقیقت ہے جہاں ایک بچہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی مجرم قرار دے دیا جاتا ہے، آخر قصور کس کا ہے؟ تنگ کمرے، غذا کی کمی، تعلیم اور صحت کی مکمل سہولیات کا فقدان اور جیل کی سخت زندگی ان بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

یہ بچے عام بچوں کی طرح جیل سے باہر اسکول نہیں جا سکتے، نہ ہی انہیں کھیلنے کا مناسب موقع ملتا ہے، جیل کا ماحول ان کے ذہن پر خوف، اداسی اور محرومی کے ایسے گہرے اثرات چھوڑتا ہے کہ کئی بچے یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جیل ہی ان کی پوری دنیا ہے جو ایک نہایت خوفناک حقیقت ہے۔

دستاویزات کے مطابق سال 2019 سے 2024 کے دوران ملک کی 91 مختلف جیلوں میں 148 بے گناہ اور معصوم بچوں نے جنم لیا، پنجاب کی 41 مختلف جیلوں میں 96 بچے، سندھ کی 23 آپریشنل جیلوں میں 34 بچے، خیبر پختونخوا کی 15 آپریشنل جیلوں میں 14 بچے جبکہ بلوچستان کی جیلوں میں 2 بچے پیدا ہوئے۔

پاکستان پریزن رولز کے مطابق بچہ 6 سال تک اپنی ماں کے ساتھ جیل میں رہ سکتا ہے لیکن 6 سال کے بعد بچے کو ماں سے جدا کر دیا جاتا ہے ، سوال یہ ہے کہ کیا 6 سال کے بعد بچے کو ماں کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے؟ اس بات کی ذمہ داری کون لے گا کہ جیل میں جو کچھ بچے نے دیکھا، سنا اور سیکھا وہ اس کی شخصیت اور اخلاقیات کے لیے خطرناک ثابت نہیں ہو گا؟

حکومت اور معاشرے کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ان بے گناہ بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچہ 5 سال کی عمر تک انتہائی نازک اور حساس ہوتا ہے، یہی سال بچے کی شخصیت کی بنیاد رکھتے ہیں اور اگر یہ دور ناگوار حالات میں گزرے تو بچے کی نفسیاتی صحت پر نقصان بھی ہو سکتا ہے جس کے اثرات زندگی بھر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

یاد رکھنا چاہیے کہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، ان بچوں کے لیے ایسا نظام بنایا جانا چاہیے جہاں ان کی صحیح تربیت ہو سکے، مجرموں کے درمیان رہ کربچہ مجرم ہی بنے گا لہذا حکومت اور اداروں کو چاہئے کہ ان بچوں کیلئے ایسا ماحول پیدا کریں کہ یہ بچے مستقبل کی ایک اچھی نوید بن کر سامنے آئے۔

اگر ہم نے آج ان بے گناہ بچوں کے حقوق کا تحفظ نہ کیا تو کل ہمیں ایک بے حس کمزور اور جرائم ذہنیت کے معاشرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

کرنسی، دھاتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ
Currency → PKR
Currency Pair Rate (PKR) Change
🇺🇸 US Dollar USD → PKR 277.31 ▼ 0.29
🇪🇺 Euro EUR → PKR 322.22 ▼ 0.35
🇬🇧 British Pound GBP → PKR 376.85 ▲ 1.61
🇸🇦 Saudi Riyal SAR → PKR 73.89 ▲ 1.01
🇦🇪 UAE Dirham AED → PKR 75.51 ▼ 0.07
🇨🇳 Chinese Yuan CNY → PKR 41.32 ▼ 0.04
Current Metals
Metal Unit Price (PKR) Change
Gold 24K Per Tola 466,487
Gold 22K Per Tola 427,613
Gold 21K Per Tola 408,176
Gold 18K Per Tola 349,865
Silver Per Tola 6,970
Platinum Per oz (USD) 1,826 ▲ 1.9%
Current Petrol
Fuel Type Unit Price (PKR) Change
Petrol Super Per Litre 345.87
Diesel HSD Per Litre 267.06
High Octane Per Litre 350.00 ▼ 95.00
Kerosene Per Litre 307.00
LPG Per Kg 258.65
ضرور پڑھیں