سعودی عرب نے یورپ کو خام تیل کی سپلائی روک دی
گزشتہ دنوں سعودی وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو عراق سے آنے والے ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ حملوں کے بعد سعودی عرب نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کردیا تھا۔
اب غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب نے یورپ کو خام تیل کی فراہمی بھی روک دی ہے، سعودی آرامکو نے یورپی ریفائنریز کیلئے خام تیل کے بعض کارگو منسوخ یا مؤخر کردیے ہیں، جس کے بعد یورپی مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے کے باعث ایسٹ ویسٹ پائپ لائن مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈی تک تیل پہنچانے کے اہم متبادل راستوں میں شامل رہی ہے۔
یہ پائپ لائن معمول کے حالات میں روزانہ تقریباً 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل کی صلاحیت رکھتی تھی،اس اہم پائپ لائن کی بندش کے باعث اس کی بحالی کا وقت عالمی تیل سپلائی کیلئے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
پائپ لائن کی مرمت میں 3 سے 5 ہفتے لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم امریکی انرجی سیکرٹری کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ پائپ لائن چند دنوں میں دوبارہ کھولی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل پھر مہنگا ہوگیا
پائپ لائن کی بندش اور یورپ کو خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی کے حوالے سے صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔