ٹرمپ کی سعودی عرب کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدے کی منظوری
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکا سعودی عرب کے سویلین جوہری پروگرام کے قیام اور ترقی میں معاونت فراہم کرے گا۔
معاہدے کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مہارت تک رسائی حاصل ہو سکے گی، جس کا مقصد توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اس جوہری تعاون معاہدے کی مدت تقریباً 30 سال ہوگی۔ معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالرز پر مشتمل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے سعودی عرب میں جوہری انفراسٹرکچر کی تعمیر اور توسیع میں مدد ملے گی۔
امریکی اخبار کے مطابق معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب میں یورینیئم کی افزودگی کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے عالمی سطح پر جوہری تحفظ اور عدم پھیلاؤ کے معاملات پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کے جوہری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ترقی میں امریکی کمپنیوں کو نمایاں کردار حاصل ہوگا، جبکہ دیگر غیر ملکی کمپنیوں کی شمولیت محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طویل المدتی تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی نطنز کے ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
سعودی عرب پہلے ہی توانائی کے شعبے میں تنوع پیدا کرنے اور تیل پر انحصار کم کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جبکہ سول جوہری توانائی پروگرام اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کی نظریں اب اس معاہدے کی عملی پیش رفت اور اس کے علاقائی و عالمی اثرات پر مرکوز ہیں۔