ایران نے آبنائے ہرمز میں 3 بحری جہازوں کو روک دیا
ایرانی نیوی کے مطابق یہ جہاز مقررہ اور منظور شدہ بحری راستوں سے ہٹ کر سفر کر رہے تھے، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں روک کر وارننگ جاری کی گئی۔
ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے سخت تنبیہ کے بعد تینوں جہاز اپنے روٹ پر واپس چلے گئے اور صورتحال پرامن طور پر قابو میں آ گئی۔
حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد خطے میں بحری قوانین کی پابندی کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکنا تھا۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو متوازی بحری راستوں کے ذریعے اور ایران کو نظر انداز کر کے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا، خطے میں بحری انتظامی نظام کو بین الاقوامی اصولوں اور اسلام آباد میمورنڈم کی شق 5 کے مطابق ترتیب دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحری راستوں کے انتظام میں ایران کے کردار کو نظر انداز کیا گیا تو متوازی بحری راستوں کی معطلی ناگزیر ہو سکتی ہے، جو خطے کی تجارت اور عالمی توانائی کی ترسیل پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی فوجی اڈے ایرانی میزائلوں کی رینج سے دور کرنے کی تیاری
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔