امریکی فوجی اڈے ایرانی میزائلوں کی رینج سے دور کرنے کی تیاری
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں قائم امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹرز، مواصلاتی نظام، گوداموں اور متعدد اہم عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں سے امریکی عسکری ڈھانچے کو نمایاں نقصان اٹھانا پڑا، تاہم امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تاحال عوامی سطح پر اس نقصان کی تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کیں۔
رپورٹس کے مطابق صرف بحرین میں امریکی بحری تنصیبات کی تعمیر نو پر تقریباً 40 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ خطے میں دیگر امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کا تخمینہ 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے دو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا مستقبل میں اپنے بعض فوجی اڈے یا اہم آپریشنز ایسے مقامات پر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے جو ایرانی میزائلوں کی براہِ راست رینج سے باہر ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:7.1 شدت کا تباہ کن زلزلہ، ہزاروں ہلاکتوں کا خدشہ
رپورٹ میں اسرائیل کو بھی ممکنہ متبادل مقام قرار دیا گیا ہے، جہاں بعض فوجی تنصیبات یا آپریشنل سرگرمیاں منتقل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
تاہم امریکی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جبکہ دفاعی ماہرین اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کا اہم اشارہ قرار دے رہے ہیں۔