اسرائیل اور لبنان میں مذاکرا کامیاب، جنگ بندی ہو گئی

Israel Lebanon Ceasefire Agreement
فائل فوٹو
Updated 9 گھنٹے قبل | Published June, 4 2026 |
واشنگٹن:(ویب ڈیسک) امریکا نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان جنگ بندی کے نفاذ پر متفق ہو گئے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور امن کی نئی راہیں کھلنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے جنگ بندی کے فریم ورک پر اتفاق کیا۔

اس پیش رفت کا مقصد سرحدی علاقوں میں جاری جھڑپوں اور سکیورٹی خدشات کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی کے نفاذ کیلئے چند اہم شرائط طے کی گئی ہیں، جن میں حزب اللہ کی جانب سے مکمل طور پر فائرنگ بند کرنا اور جنوبی لیطانی سیکٹر سے اپنے تمام جنگجوؤں کا انخلا شامل ہے۔

فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مخصوص پائلٹ زونز قائم کیے جائیں گے جہاں صرف لبنانی مسلح افواج کو مکمل کنٹرول حاصل ہوگا اور کسی بھی غیر ریاستی مسلح گروہ کو وہاں سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس سکیورٹی فریم ورک کا بنیادی مقصد لبنان اور اسرائیل کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت غیر ریاستی مسلح گروہوں کی تحلیل اور ان کی دوبارہ تنظیم کی روک تھام کو بھی ترجیح دی جائے گی۔

امریکا نے اس موقع پر لبنانی مسلح افواج کی مسلسل معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا سکیں اور ریاستی رٹ کو مؤثر انداز میں نافذ کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران سے معاہدے کے بہت قریب ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک 22 جون سے شروع ہونے والے ہفتے میں سیاسی اور سکیورٹی مذاکرات کا نیا دور شروع کریں گے، امریکا اس عمل میں ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ ایک جامع اور پائیدار امن معاہدے تک پہنچا جا سکے۔