امریکا ایران جنگ ایک بار پھر شروع، خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھیں

US Iran Conflict
فائل فوٹو
Updated 11 گھنٹے قبل | Published June, 3 2026 |
تہران: (ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے خطے کے امن و استحکام سے متعلق نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم میں ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے، جس کے نتیجے میں بحرین، قطر اور عراق میں سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، ایک فضائی اڈے، بحری جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حملوں کا بڑا حصہ ناکام بنا دیا گیا ہے، کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں ہی گر گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائل امریکی اور بحرینی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے، بعض ایرانی بیلسٹک میزائل اپنے مقررہ اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

امریکی فوج نے ایک بوٹسوانا کے پرچم بردار آئل ٹینکر کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، یہ ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک

سینٹکام کمانڈر کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن بحیرۂ عرب میں سرگرم ہے، جبکہ امریکی فورسز نے درجنوں تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرتے ہوئے بحری سلامتی کے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔