یو اے ای سے پاکستانیوں کی بے دخلی؟ حقیقت سامنے آگئی

UAE Expat Policy Update
فائل فوٹو
Updated 11 گھنٹے قبل | Published June, 1 2026 |
ابوظہبی:(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی سے متعلق خبروں کے بعد اماراتی حلقوں نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کر دی۔

یو اے ای حلقوں کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ملک میں کسی بھی فرد کیخلاف کارروائی رنگ، نسل، مذہب یا مسلک کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف قانون اور سیکیورٹی ضوابط کے مطابق کی جاتی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء اور تبصرے سامنے آئے، جن میں بعض صارفین نے پاکستانی شہریوں کیخلاف مبینہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب اماراتی حکومت کے قریبی سمجھے جانے والے بعض سوشل میڈیا مبصرین اور تجزیہ کاروں نے رپورٹ میں پیش کیے گئے فرقہ وارانہ یا امتیازی پہلو کو مسترد کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں تمام رہائشیوں اور غیر ملکی شہریوں پر قوانین یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔

اماراتی حلقوں کے مطابق اگر کسی غیر ملکی شہری کیخلاف کارروائی کی جاتی ہے تو اس کا تعلق عموماً ویزا شرائط، امیگریشن قوانین، سیکیورٹی معاملات یا دیگر قانونی تقاضوں سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:محرم الحرام کا چاند کب نظر آئے گا؟ اہم پیشگوئی

دوسری جانب پاکستان کی وزارت داخلہ بھی واضح کر چکی ہے کہ اگر کسی پاکستانی شہری کیخلاف متحدہ عرب امارات میں کارروائی ہوئی ہے تو اس کا تعلق وہاں کے مقامی قوانین اور ضابطوں سے ہو سکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں، اس نوعیت کے معاملات کو قانونی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جاتا ہے۔