امریکا کے جنگ بندی کے باوجود ایران پر فضائی حملے

امریکا
امریکا نے جنگ بندی کے باوجود جنوبی ایران میں فضائی حملے کئے/فائل فوٹو
Updated 14 گھنٹے قبل | Published May, 26 2026 |
(ویب ڈیسک) امریکا نے جنگ بندی کے باوجود جنوبی ایران میں فضائی حملے، ڈرون لانچنگ تنصیبات اور ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنا دیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے گئے ہیں جس میں ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سینٹرل کمان نے جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے، امریکی فورسز نے ایران کے ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

سینٹ کام کے مطابق بارودی سرنگین بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، امریکی فوج جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی افواج کا دفاع کرے گی۔ اس سے پہلے ایران کے شہر بندر عباس میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ ایرانی میڈیا نے کہا تھا کہ بندر عباس میں صورتحال کنٹرول میں ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا پاکستان سمیت عرب ممالک سے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کا مطالبہ

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے افزودہ یورینئیم کو منتقل کرنے سے متعلق بیان پر گھانا میں ایرانی سفارتخانے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افزودہ یورینیم گھر میں ہے اور گھر میں ہی رہے گی۔

کینیا میں ایرانی سفارتخانے نے کہا کہ ٹرمپ اب تک نیوکلیئر ڈسٹ تصور کے وہم میں مبتلا ہیں۔ سفارتخانے سے جاری بیان میں صدر ٹرمپ کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ پچھلی بار جب آپ نے اصفہان سے نیوکلیئر ڈسٹ نکالنے کی کوشش کی تھی تو اپنے 10 سے 12 فوجی طیارے گنوائے تھے جن کی مالیت سیکڑوں ملین ڈالر تھی۔

بھارت کے شہر حیدرآباد میں ایرانی قونصل خانے نے کہا کہ اگر ایران نے یورینیم امریکا کو دینا ہوتی توجنگ سے بہت پہلے ایسا کرچکا ہوتا اور اگر امریکا جنگ کے ذریعے یہ حاصل کرسکتا تو امریکا بھی یہ لے چکا ہوتا۔ صدرٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے حیدرآباد میں ایرانی قونصل خانے نے کہا کہ اب آپ اپنے ٹوٹے خوابوں کو دہرا ہی سکتے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو غلط فہمی کا شکار جنگی مجرم دوست پر اعتماد کرنے کی وجہ سے ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ افزودہ یورینیم کو یا تو فوری طور پر امریکا کے حوالے کیا جائے گا تاکہ اسے وہاں منتقل کر کے تلف کر دیا جائے یا ترجیحاً ایران کے ساتھ باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے تحت اُسی مقام پر یا کسی دوسرے قابلِ قبول مقام پر تباہ کیا جائے۔

امریکی صدر نےکہا کہ اس پورے عمل اور موقع پر ایٹمی توانائی کمیشن، یا اس کے مساوی ادارے، کی نگرانی اور موجودگی ہوگی۔