برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کو اب تک کا بڑا سیاسی دھچکا
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلتھ سیکرٹری ویس سٹریٹنگ عہدے سے مستعفی ہو گئے، ویس ٹریٹنگ کئیر سٹارمر کی لیڈرشپ کو چیلنج کرنے والے ایک بڑے گروپ کو لیڈ کر رہے ہیں۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ویس اسٹریٹنگ کا کہنا تھا کہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ کیئر اسٹارمر لیبر پارٹی کو آئندہ عام انتخابات تک کامیابی سے نہیں لے جا سکیں گے، سٹارمر پر اعتماد نہیں رہا، موجودہ سیاسی حالات میں حکومت کا حصہ رہنا “بے ایمانی اور بے عزتی” کے مترادف ہو گا۔
ذہن نشین رہے کہ پہلے حکومتی وزیر میاٹا فہنہبولا نے استعفی دیا وہ فیتھ اینڈ کمیونٹیز منسٹر کے عہدے پر فائز تھیں جبکہ وزرا کے چار معاونین بھی اپنے عہدوں سے استعفے دے چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے لوکل اور اسکاٹ لینڈ و ویلز کی پارلیمنٹ کے انتخابات میں بدترین شکست کے بعد لیبر پارٹی کی قیادت تبدیل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے لیڈر کے انتخاب کیلئے 81 ارکان کی حمایت درکار ہے، برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر اراکین کی تعداد 403 ہے۔
یاد رہے کہ جولائی 2022 میں بورس جانسن کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کیلئے 62 وزرا سمیت حکومتی عہداروں نے استعفی دے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا
دو روز قبل کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ الیکشن میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور وعدے کے مطابق ملک میں تبدیلی لائیں گے۔
برطانوی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ملک ہم سے حکومت کرنے کی توقع کر رہا ہے، میں یہ ہی کچھ کر رہا ہوں اور کابینہ کو بھی یہ ہی کرنا چاہیے۔