برطانوی وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

برطانیہ کے سیاسی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہونے لگا، وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کا معاملہ زور پکڑ گیا۔
فائل فوٹو
Updated | Published May, 12 2026 | Muhammad Bilal
لندن: (سنو نیوز) برطانیہ کے سیاسی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہونے لگا، وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کا معاملہ زور پکڑ گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے حکومتی وزیر میاٹا فہنہبولا نے استعفی دیا وہ فیتھ اینڈ کمیونٹیز منسٹر کے عہدے پر فائز تھیں، گزشتہ شب وزرا کے چار معاونین نے بھی اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم کے مستقبل کا فیصلہ آج ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے لوکل اور اسکاٹ لینڈ و ویلز کی پارلیمنٹ کے انتخابات میں بدترین شکست کے بعد لیبر پارٹی کی قیادت تبدیل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

پیر کی شام تک 72 اراکین پارلیمنٹ وزیر اعظم سے رخصت ہونے کا ٹائم ٹیبل مانگنے والوں میں شامل ہو گئے تھے تاہم آج منگل کے روز وزیر اعظم سے استعفے کا ٹائم ٹیبل مانگنے والے اراکین کی تعداد 78 تک جا پہنچی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے برطانیہ کے ورک ویزا قوانین مزید سخت

رپورٹ کے مطابق نئے لیڈر کے انتخاب کیلئے 81 ارکان کی حمایت درکار ہے، برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر اراکین کی تعداد 403 ہے۔

جولائی 2022 میں بورس جانسن کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کیلئے 62 وزرا سمیت حکومتی عہداروں نے استعفی دے دیا تھا

بادشاہ چارلس حکومت کے آئندہ برس کی قانون سازی کے حوالے سے کل پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور وعدے کے مطابق ملک میں تبدیلی لائیں گے۔

کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 48 گھنٹے حکومت کیلئے غیر مستحکم رہے اور اس کی ہمارے ملک اور عوام کیلئے حقیقی معاشی قیمت ہے، لیبر پارٹی کے پاس لیڈر کو چیلنج کرنے کا طریقہ کار ہے جسے متحرک نہیں کیا گیا ہے۔

اس کو بھی دیکھیں: برطانیہ میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن تیز

برطانوی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ملک ہم سے حکومت کرنے کی توقع کر رہا ہے، میں یہ ہی کچھ کر رہا ہوں اور کابینہ کو بھی یہ ہی کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ جولائی 2022 میں بورس جانسن کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹانے کیلئے 62 وزرا سمیت حکومتی عہداروں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔