امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ جنگ شروع ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ مذاکرات چاہتے تھے اور وہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ امریکہ اپنے اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رکھے گا، ایران پر خطے میں شہری مقامات اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسٹمسن سینٹر کی ماہر باربرا سلاون نے کہا کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر جنگ کو ختم کرنے کیلئے ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ اسے ناکامی کے تاثر کے بغیر ختم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکہ کا موقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایران اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکہ جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے، تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا امریکا کے طیارہ بردار جہاز پر بڑا حملہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات ضروری ہیں، لیکن صدر ٹرمپ کی دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے خطے میں حالات غیر یقینی اور نازک ہیں۔
عالمی برادری نے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی راستے اختیار کرنے پر زور دیا ہے تاکہ کشیدگی مزید بڑھنے سے روکی جا سکے۔