ترجمان کا کہنا ہے کہ جنرل کرسٹوفر لانیو ایک تجربہ کار اور قابلِ اعتماد فوجی رہنما ہیں جو موجودہ انتظامیہ کے وژن کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ ان کی تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب عالمی سطح پر سیکیورٹی کی صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور امریکا کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔
دوسری جانب سبکدوش ہونے والے جنرل رینڈی جارج ایک منجھے ہوئے انفنٹری افسر رہے ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ امریکی فوجی اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہیں اور پہلی خلیجی جنگ کے ساتھ ساتھ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
انہیں 2023 میں سابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے اس اہم عہدے کیلئے نامزد کیا گیا تھا، ان کی مدت ملازمت 2027 تک متوقع تھی۔
یہ بھی پڑھیں:زمینی کارروائی کی صورت میں ایک بھی امریکی فوجی زندہ نہیں بچے گا، ایرانی آرمی چیف
تجزیہ کاروں کے مطابق اس اچانک تبدیلی کے اثرات نہ صرف امریکی فوج بلکہ عالمی سیکیورٹی منظرنامے پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ اس فیصلے کی وجوہات پر بحث جاری ہے۔