رپورٹس کے مطابق یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے کیا گیا جس نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
حملہ تہران میں واقع کمال خرازی کی رہائش گاہ پر کیا گیا جہاں زور دار دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، اس حملے میں نہ صرف رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا بلکہ قریبی سرکاری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق زخمی کمال خرازی کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، تاہم ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
ذہن نشین رہے کہ کمال خرازی ایران کے ایک سینئر اور بااثر رہنما سمجھے جاتے ہیں جو سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مشیر رہ چکے ہیں اور موجودہ قیادت کے ساتھ بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
اس واقعے کے بعد ایرانی حکام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور عالمی برادری کی نظریں بھی اس صورتحال پر مرکوز ہیں۔