روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی قیادت کو نوروز کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو تہران کا ایک وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار بنا رہے گا۔ کریملن کے جاری کردہ بیان کے مطابق پیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ اور ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کو ایرانی نئے سال کی مبارک باد دی۔
بیان میں کہا گیا کہ روسی صدر نے ایرانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ مشکل حالات کا باوقار طریقے سے مقابلہ کریں۔ پیوٹن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نازک وقت میں روس ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا اور اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم
روس نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روسی مؤقف کے مطابق ان حملوں نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کے بڑے بحران کو بھی جنم دیا ہے۔ روسی صدر نے ایرانی سپریم لیڈر کے قتل کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے "سنگ دلانہ" اقدام قرار دیا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے روس کی حمایت کی نوعیت پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض ایرانی ذرائع کے مطابق 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد موجودہ بحران ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، لیکن اس کے باوجود روس کی عملی مدد محدود نظر آ رہی ہے۔
واضح رہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ موجود ہے، تاہم اس میں باہمی دفاع کی کوئی واضح شق شامل نہیں ہے۔ روس اس بات پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرے، کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔
| فقہ جعفری | فقہ حنفی | شہر | ||
|---|---|---|---|---|
| افطار | سحر | افطار | سحر | |