اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق زخمیوں میں ایک 5 سالہ بچی کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 11 افراد کی حالت درمیانی بتائی جا رہی ہے، دیگر افراد کو معمولی زخم آئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق حملے کے وقت عراد میں رہائشیوں کو بروقت الرٹ جاری نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث متعدد افراد اس وقت کھلے مقامات پر موجود تھے اور اچانک حملے کی زد میں آ گئے۔ شہر کے مرکزی اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ فائر فائٹرز نے بھی بڑے پیمانے پر نقصان کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور اسرائیل کا ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ، تہران کی تصدیق
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی ایروسپیس فورس کے کمانڈر سید ماجد موسوی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں کے آسمانوں پر اپنی برتری قائم کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی میزائل حکمت عملی اور جدید لانچ سسٹم دشمن کے لیے حیران کن ثابت ہوں گے اور آئندہ حملوں کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے نطنز میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل ایران نے اسرائیل کے شہر دیمونا پر بھی حملہ کیا تھا، جس میں 51 افراد زخمی ہوئے تھے۔
ادھر اسرائیلی حکومت نے سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پورے ملک میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزارت تعلیم کے مطابق اتوار اور پیر کے روز کسی بھی تعلیمی ادارے میں فزیکل حاضری نہیں ہوگی اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق دیمونا اور عراد پر حالیہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان براہ راست تصادم کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں دونوں جانب سے بیانات اور دعوؤں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم آزاد ذرائع سے تمام تفصیلات کی مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، جس کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
| فقہ جعفری | فقہ حنفی | شہر | ||
|---|---|---|---|---|
| افطار | سحر | افطار | سحر | |